ٹیلی کام ٹیکسز
پاکستان کا موبائل اور ٹیلی کام سروسز پر دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس لگانے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونا تشویشناک ہے۔ عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز اور مجموعی سیلز پر ٹیکس کی شرح 37 فیصد ہے‘ جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ صورتحال براہِ راست ٹیکس اکٹھا کرنے میں حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب حکومتیں بااثر طبقات اور ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو خسارہ پورا کرنے کیلئے بالواسطہ ٹیکسوں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ روش امیر اور غریب کا فرق مٹا کر عام شہری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کا سبب بنتی ہے جس سے معاشرے میں معاشی ناہمواری مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ بنیادی انسانی ضرورت بن چکے ہیں‘ لہٰذا اس پر ٹیکسوں کی بھرمار کی ہر گز حمایت نہیں کی جاسکتی۔

یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل پاکستان ویژن کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لائے۔ موبائل فونز اور ٹیلی کام سروسز پر عائد غیر ضروری ٹیکسوں کا فوری خاتمہ اور انہیں منصفانہ حد تک متوازن بنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ٹیکسوں کی شرح کو متوازن بنانے سے نہ صرف عام آدمی کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی معیشت اور ڈیجیٹل کاروبار کو بھی فروغ ملے گا۔