عید الاضحی اور فلسفۂ قربانی
عیدالاضحی ایثار‘ محبت‘ ہمدردی اور اجتماعی شعور کا درس دینے والا عظیم دن ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے‘ جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنی سب سے عزیز متاع کو قربان کرنے میں دقیقہ فروگزاشت نہ کیا گیا۔ قربانی کے اس فلسفے کو سمجھنا ہماری تمدنی حیات اور معاصر تقاضوں کے بہتر شعور کیلئے بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فرمانِ باری تعالیٰ سے واضح ہے کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں بنیادی اہمیت تقویٰ کی ہے۔ قربانی دراصل ایثار اور تسلیم ورضا کے جذبے کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم جانور قربان کرنے کے بعد اپنی سماجی وقومی ذمہ داریوں اور اپنے سماجی دائرے میں محروم طبقات کی ضروریات سے بے نیاز رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے قربانی کی روح کو سمجھنے میں کوتاہی کی۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں‘ ناداروں اور ضرورت مندوں کو خصوصی اہمیت دی ہے اور ان کے حصے مقرر کئے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کا احساس پیدا ہو۔

آج جب مہنگائی‘ بیروزگاری اور معاشی عدم استحکام نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے تو صاحبِ استطاعت حضرات کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ قربانی کو حقیقی معنوں میں سماجی فلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے دنیا کے معاشی حالات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آنے والے وقت کے حوالے سے بھی بے یقینی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کیلئے کڑے معاشی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے جہاں ایک بڑا طبقہ غذائی قلت اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں قربانی کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرتی خلیج کو کم کرنے کیلئے اجتماعی ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ قربانی کا گوشت صرف رشتے داروں اور دوستوں تک رکھنے کے بجائے ان گھروں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں شاید سال بھر گوشت پکانا ممکن نہ ہوتا ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قربانی کی اصل روح مالی حیثیت کے اظہار میں نہیں بلکہ آدمی کے اندر عاجزی اور احساس پیدا کرنے میں ہے؛ چنانچہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے دوران یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی جانے والی قربانی کا مقصد محض حصولِ رضائے الٰہی ہو‘ نہ کہ نام ونمود اور نمائش کیونکہ دین میں بھی نمود ونمائش کے بجائے خلوصِ نیت اور تقویٰ کو اہمیت دی گئی ہے ۔ آج کے حالات صرف عوام ہی نہیں حکومت اورسیاسی قیادت سے بھی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اپنی اَنا کی قربانی دینا ہوگی اور برسر اقتدار طبقات اور اشرافیہ کو اپنی مراعات کی۔ اس طرح کافی رقوم کی بچت کر کے کم آمدنی والے طبقات کیلئے سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ عیدالاضحی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔
اگر سیاستدان اپنے رویوں میں برداشت‘ مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دیں تو سیاسی کشیدگی میں کمی آ سکتی اور عوام کا نظام پر اعتماد مستحکم ہو سکتا ہے۔ معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی فلسفۂ قربانی کو اپنی عملی زندگی پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاجر اگر ناجائز منافع خوری ترک کر دیں‘ ادارے بدعنوانی سے پاک ہو جائیں اور صاحبِ حیثیت طبقات میں معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر ہو جائے تو ہمارا سماج مثالی بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی دوسرا ان اوصاف کو اپناتا ہے یا نہیں‘ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ذاتی سطح میں ہم نے کیا مثبت تبدیلی کی۔ عیدالاضحی ہمیں بہتر انسان اور بہتر معاشرہ بنانے کیلئے تیار کرتی ہے۔ اگر ہم قربانی کے فلسفے کو سمجھ لیں تو معاشرے میں ہمدردی‘ مساوات‘ رواداری اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی ہمارے سماج کو اشد ضرورت ہے۔