پولیو ٹیم پر تشدد
لاہور کے علاقے لٹن روڈ پر انسدادِ پولیو کی ٹیم پر تشدد کا واقعہ محض ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ یہ اس جہالت اور منفی ذہنیت کا عکاس ہے جو ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ہمارے ہیلتھ ورکرز‘ جو ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے تپتی دھوپ میں گلی گلی گھوم کر بچوں کو ویکسی نیشن پلاتے ہیں‘ وہ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی محفوظ نہیں ۔ اگر صوبائی دارالحکومت میں ایسے واقعات پیش آ سکتے ہیں تو دور دراز کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔پولیو طویل عرصے سے پاکستان کیلئے سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک اس موذی مرض سے دہائیوں پہلے نجات حاصل کر چکے ہیں لیکن پاکستان اور افغانستان ‘ دو ممالک ایسے ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی بچوں کی عمر بھر کی معذوری کا سبب بن رہا ہے۔ اس بیماری سے مکمل نجات پانے کیلئے سب سے اہم ضرورت عوام کی ذہن سازی کی ہے۔

پولیو ٹیموں پر حملے اور ویکسی نیشن سے انکار کی بنیادی وجہ وہ بے بنیاد افواہیں‘ توہمات اور من گھڑت نظریات ہیں جو سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر پھیلائے جاتے ہیں۔ حکومت‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک مربوط اور وسیع تر مہم کے تحت لوگوں کے ذہنوں میں موجود بے بنیاد خدشات کا ازالہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب پولیو ورکرز کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنا چاہیے۔ پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے‘ اس واقعے کو معمولی سمجھ کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔