کاروباری اعتماد میں کمی
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے مطابق 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس اشاریے کے مطابق صرف تین ماہ کے دوران مجموعی کاروباری اعتماد 22فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آگیا۔ رپورٹ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے یا تو نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں یہ جمود معیشت کے مستقبل کیلئے خطرناک اشارہ ہے۔ کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی میں اضافہ‘ ایندھن کی قیمتوں کا دباؤ‘ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے اثرات‘ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل شامل ہیں۔ ان عوامل نے نہ صرف کاروباری لاگت کو بڑھایا ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

کاروباری اعتماد میں اس کمی کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔ جب سرمایہ کاری رک جائے گی تو پیداوار اور روزگار کے مواقع میں کمی اور حکومتی آمدنی میں دباؤ جیسے مسائل شدت اختیار کریں گے۔ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف سرمایہ کاری کا بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی اور دیرپا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات کرے تاکہ معیشت کو استحکام اور کاروباری ماحول کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے۔