وسائل اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا مسئلہ
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اگلے روزسالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ نئے مالی سال میں 4097 ارب روپے کی پراجیکٹ ڈیمانڈ کے مقابلے میں پی ایس ڈی پی کی مد میں 1126 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ اس طرح حکومت کو مالی سال 2026-27ء میں تقریباً 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ترقیاتی بجٹ ضروریات سے کم ہے جس سے منصوبوں کی بروقت تکمیل مشکل ہو گئی ہے اور منصوبہ بندی کے عمل کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ ملک کی ترقی عوامی فلاحی منصوبوں میں حکومتی اخراجات پر مدار کرتی ہے لیکن جب ترقی کے منصوبوں کیلئے مطلوبہ رقوم مختص نہ کی جائیں تو اسکے دو طرح سے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ اوّل یہ کہ عوام ان ترقیاتی منصوبوں کے فوائد سے محروم رہتے اور ان منصوبوں سے ملکی ترقی کے جو امکانات وابستہ ہوتے ہیں وہ عملی صورت اختیار نہیں کر پاتے۔

دوسری جانب اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ منصوبوں کی لاگت بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہمارے ہاں شاید ہی کوئی ترقیاتی منصوبہ ہو جو اپنی تخمینہ مدت اور معینہ لاگت میں مکمل ہوا ہو۔ ملک بھر میں صوبائی اور وفاقی انتظامات میں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی کو پانی کی سپلائی کا منصوبہ کے فور‘ جو 12 سال پہلے 25 ارب روپے میں مکمل ہو جانا تھا مگر مسلسل تاخیر کے شکار اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ اب 200 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے اور آنے والے وقت میں یہ لاگت مزید بڑھنا خارج از امکان نہیں کیونکہ افراطِ زر میں اضافے کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اسی طرح دیگر اہم ترین نوعیت کے منصوبے بھی برسوں بلکہ دہائیوں تاخیر کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی تخمینہ لاگت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں تربیلا ڈیم کی توسیع اور پن بجلی کے متعدد منصوبے قابلِ ذکر ہیں جن کی تاخیر سے دہرا نقصان ہوا۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ اہم ترین نوعیت کے قومی ترقیاتی منصوبوں کیلئے ترجیحی ضابطہ کار بنایا جائے۔
مالیاتی مشکلات اپنی جگہ مگر قومی سطح پر حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جائے تو ان مشکلات سے نمٹنا اتنا مشکل نہیں ہو گا۔ ضروری یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے مالی وسائل کی فراہمی ان کی اہمیت اور افادیت کے تناظر میں ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے انتہائی اہمیت کے منصوبے دہائیوں التوا کا شکار رہتے ہیں اور ان پر کام رک رک کر چلتا ہے جبکہ اسی دوران بعض ایسے منصوبے جن کی افادیت کم ہوتی ہے‘ انہیں ترجیحات میں سرفہرست رکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی وسائل اکثر ایسے منصوبوں کی نذر ہو جاتے ہیں جن کا حقیقی معنوں میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا یا وہ ایسے لازمی نوعیت کے منصوبے نہیں ہوتے کہ وسائل کی فراہمی میں انہیں ترجیح دی جائے۔ اگر اس حوالے سے ایک اصول وضع کر لیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے تو مالی وسائل یقینی طور پر انہی منصوبوں پر صرف ہوں گے جن کی قومی اہمیت اور افادیت زیادہ ہے۔
اس طرح نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ ضروری نوعیت کے منصوبوں کی جلد تکمیل سے عوام کو بھی بڑی سہولت میسر آئے گی۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت مالی وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے لہٰذا صوبائی حکومتیں اگر مالیاتی نظم وضبط پر توجہ دیں تو موجودہ وسائل ہی کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے زیادہ عملی نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ مانیٹرنگ اور احتساب کے کڑے نظام اور بھاری مراعات کے بجائے حقیقی محکمانہ اصلاحات سے ان مسائل کا ازالہ ہو سکتا ہے جنہوں نے صوبوں کے اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ثمرات کو عوام تک منتقل ہونے سے روک رکھا ہے۔