بجلی کمپنیوں کا احتساب
حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں صارفین کی شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی پر متعلقہ عملے اور افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاور ڈویژن کی جانب سے اکتوبر 2025ء سے مارچ 2026ء تک کے عرصے میں بجلی کے شعبے کیلئے قائم شکایتی نظام کے اعداد و شمار کے جائزے کے بعد کیا گیا۔ جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ ہزاروں صارفین کی شکایات یا تو مقررہ وقت کے اندر حل نہیں کی گئیں یا انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اگر اس فیصلے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کیا جاتا ہے تو اس کے متعدد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران اور عملے میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوگا اور صارفین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جاسکے گا۔

تاہم ماضی کے تجربات اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اپریل 2024ء میں حکومت نے بجلی کی اوور بلنگ اور صارفین کو غلط بل بھیجنے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا مگر وہ فیصلہ عملی نتائج دینے کے بجائے اعلانات تک محدود رہا‘ نتیجتاً مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ اسلئے موجودہ فیصلے کو صرف اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی عوام تک پہنچنے چاہئیں۔