اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارہ اور معاشی بحران

پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے سنگین بحران کی زد میں ہے جہاں بیرونی ادائیگیوں کا بڑھتا عدم توازن معاشی استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ تجارتی خسارے میں 17 فیصد اضافہ ناقص معاشی پالیسیوں‘ پیداواری صلاحیت میں کمی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے چشم پوشی کا منطقی نتیجہ ہے۔ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکا ہے‘ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈالر کی آمد اور اخراج کے مابین فرق اب ایک گہری خلیج کی شکل اختیار کر چکا ہے‘ جس کو موجودہ وسائل کے ساتھ پُر کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بے قابو تجارتی خسارے کے بنیادی محرکات کو سمجھنے کیلئے برآمدات اور درآمدات کے تقابلی جائزے کی ضرورت ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں ملکی برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 62 ارب 66 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا۔

یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جتنا کما رہے ہیں‘ اس سے دو گنا سے بھی زیادہ بیرونی ممالک کو ادا کر رہے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں معاشی کارکردگی میں گراوٹ آئی ہے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں برآمدات 29 ارب 56 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 53 ارب 55 کروڑ ڈالر تھیں۔ یعنی ایک جانب برآمدات میں 5.61 فیصد کمی آئی تو دوسری جانب درآمدات میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال ملکی وژن 2035ء کے بھی برعکس ہے‘ جس کے تحت برآمدات میں سالانہ پانچ ارب ڈالر اضافہ کرنا ہے۔ تجارتی توازن کا یہ بگاڑ معیشت کے رگ و پے میں سرائیت کر جانے والے اس بگاڑ کا ثبوت ہے جس میں پیداواری معیشت کے بجائے صارفیت کو فروغ مل رہا۔اگرچہ اس وقت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر نے معیشت کو عارضی سہارا فراہم کر رکھا ہے اور سالانہ تیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ترسیلات معیشت کو عارضی استحکام فراہم کیے ہوئے ہیں لیکن اس غیر پیداواری سہارے پر طویل مدت تک تکیہ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ بالخصوص خلیج کی صورتحال ترسیلاتِ زر کیلئے پہلے ہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر خلیج میں بحران سنگین ہوتا ہے تو لامحالہ اس سے وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے‘ نتیجتاً ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی آ سکتی ہے۔ اس معاشی المیے کا ایک دردناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان جسے قدرت نے زرخیز زمینوں سے نواز رکھا ہے‘ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے اربوں ڈالر کی زرعی اجناس درآمد کرنے پر مجبور ہے۔

حالیہ درآمدات میں تیل و گیس کے بعد دوسرا بڑا حصہ غذائی اجناس پر مشتمل ہے‘ جو ہماری زرعی پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 31 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ تنزلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے سب سے اہم شعبے کو کس طرح نظرانداز کر رہے ہیں۔ زراعت کی طرح صنعتی اور پیداواری شعبہ بھی بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ اس معاشی دلدل سے نکلنے اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کیلئے اب روایتی اقدامات یا وقتی قرضوں سے کام نہیں چلے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتی اور زرعی شعبوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ایک جامع‘ پائیدار اور طویل مدتی قومی حکمت عملی وضع کی جائے۔ زراعت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی‘ کسانوں کو سستی بجلی‘ کھاد اور جدید بیجوں کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ صنعتوں کیلئے توانائی کے نرخوں اور ٹیکس ریٹ کو علاقائی ممالک کی سطح پر لانا ہوگا اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی اپنی پیداواری صلاحیت اور برآمدات کو نہ بڑھایا گیا اور ترسیلاتِ زر کے سہارے ہی معیشت کو چلانے کی کوشش کی گئی تو خلیج کا ممکنہ بحران اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کو مزید سنگین بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں