ماحولیات کا تحفظ، مستقبل کا تحفظ
آج دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ زمین ہماری ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم سنگین ماحولیاتی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت‘ گلیشیرز کا تیز پگھلاؤ‘ شدید اور جان لیوا ہیٹ ویوز‘ غیر متوقع بارشیں‘ تباہ کن سیلاب‘ خشک سالی اور زہریلی سموگ اب محض وقتی خدشات نہیں رہے بلکہ تلخ موسمیاتی حقیقت بن چکے ہیں۔ جنگلات کی مسلسل کٹائی ماحولیاتی توازن‘ حیاتیاتی تنوع اور موسمی نظام کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب واضح کر چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ معیشت اور انسانی زندگیوں کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔

حکومت کو ماحولیات کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ جنگلات کے تحفظ اور توسیع‘ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ‘ صنعتی اور فضائی آلودگی پر قابو اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے بغیر حالات میں بہتری ممکن نہیں۔ تاہم حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ عوام کو بھی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ درخت لگانا‘ پانی اور توانائی کا محتاط استعمال اور پلاسٹک کے استعمال سے گریزایسے اقدامات ہیں جو مل کر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر آج ماحول کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں پانی‘ خوراک‘ صحت اور محفوظ زندگی جیسی بنیادی نعمتوں سے محروم ہو سکتی ہیں۔