مہاجر نشستوں کا آئینی فیصلہ
آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کی مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے محض ایک عدالتی تشریح نہیں بلکہ ریاستی نظم‘ آئینی بالادستی اور سیاسی تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر ایک اہم اصولی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے نے مہاجر نشستوں کے حوالے سے حکومت کے مؤقف کو آئینی بنیاد فراہم کرتے ہوئے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی وقتی فیصلے یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان نشستوں کے ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی مطلوب ہو تو اس کیلئے ریاستی آئین کے آرٹیکل 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔ اس عدالتی رائے کے بعد یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی احتجاجی گروہ کی طرف سے اپنے من پسند معاملات کو دباؤ سے یا سڑکوں پر حل کرنے کی کوشش آئینی دائرہ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مخصوص سیاسی مطالبات منوانے کیلئے دبائو ڈالنا یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے مقاصد حاصل کرنا احتجاج کے حق کا ناجائز استعمال ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں عوام کے مفاد کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ الٹا اس سے ریاست کے تشخص پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور سرمایہ کاری اور سیاحت جیسے شعبوں کونقصان پہنچتا ہے۔ آئین وقانون میں کسی بھی تبدیلی کیلئے احتجاج‘ ہڑتال یا سڑکوں کی سیاست کے بجائے منتخب ایوان ہی واحد مسلمہ فورم ہے۔ یاستی نظام میں فیصلہ کن قوت منتخب اسمبلی اور آئین ہے‘ نہ کہ سیاسی دباؤ اور احتجاجی تحریکیں۔