اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبی ذخائر اور بجٹ ترجیحات

اس وقت جب پاکستان کی زراعت‘ صنعت اور کروڑوں انسانوں کی بقا کا ضامن‘ پانی ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے ملک کے آبی منصوبوں میں محدود سرمایہ کاری آبی و زرعی تحفظ اور کم لاگت بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم‘ اس کی ذخیرہ اندوزی اور بجلی کی پیداوار کے منصوبے نہ صرف ہمیں ماحولیاتی خطرات سے بچا سکتے ہیں بلکہ کم لاگت توانائی بھی مہیا کر سکتے ہیں مگر بجٹ اور فنڈز کی تقسیم میں ان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل نے ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے آئندہ مالی سال کیلئے969 ارب روپے کی ضرورت کا تخمینہ لگایا تھا لیکن حکومت کی جانب سے محض 179 ارب روپے کی رقم مختص کئے جانے کا سوچا جا رہا ہے‘ جسے ماہرین اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ بجٹ میں حکومت نے ترقیاتی فنڈ میں آبی ذخائر کیلئے مجموعی طور پر 140 ارب روپے مختص کیے تھے جن میں سے اب تک 106 ارب روپے ہی فراہم کیے جا سکے۔

ایسے وقت میں جب بھارت کی آبی جارحیت کے پیش نظر نئے آبی ذخائر کی تعمیر و توسیع ملکی دفاع کا ناگزیر تقاضا بن چکا ہے‘ آبی منصوبوں میں سرمایہ کاری حکومتی ترجیحات میں نظر نہیں آتی۔ واپڈا حکام کے مطابق اس وقت ملک کو چار بڑے جاری ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کی رفتار بڑھانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے نئے منصوبوں پر کام شروع کرنے کیلئے کم از کم 500 ارب روپے کی ضرورت ہے مگر قلیل مالی وسائل ان منصوبوں پر کام تیز کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ اسی عدم توجہی کا شاخسانہ ہے کہ وہ منصوبے جو آج سے کئی سال پہلے مکمل ہو کر آج ملک کو سستی بجلی اور وافر پانی فراہم کرنے کے قابل ہونے چاہیے تھے‘ وہ فنڈز کی قلت کے سبب آج بھی نامکمل ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبی منصوبوں کیلئے مختص بجٹ سے دسیوں گنا زائد رقوم حکومت نجی بجلی گھروں کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کپیسٹی پیمنٹس کا حجم 1940 ارب روپے سے زائد تھا جبکہ کیلنڈر ایئر 2026ء کیلئے کپیسٹی چارجز کا تخمینہ دو ہزار ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔

یعنی پیداواری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بجائے حکومت اپنا بجٹ ایسے شگاف پُر کرنے میں صرف کر رہی ہے جن کا کوئی حاصل وصول نہیں۔ ایسے وقت میں جب پینے کے صاف پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کے بنجر ہونے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے‘ آبی منصوبوں کیلئے انتہائی قلیل بجٹ اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ پانی کے بغیر نہ تو معیشت چل سکتی ہے اور نہ ہی انسانی بقا کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر جاری آبی منصوبوں پر فنڈز اور کام کی سست رفتاری کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس رفتار یہ منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں ان کی تکمیل کیلئے اب سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ رواں سال فروری میں وزارتِ آبی وسائل کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریائے سندھ پر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا بجٹ اس قدر محدود ہو چکا ہے کہ موجودہ فنڈنگ کی رفتار سے اس منصوبے کو مکمل ہونے میں64 سال درکار ہوں گے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم آئندہ46 برس میں اور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ 10 برس بعد مکمل ہو گا۔

وہ منصوبے جنہیں چند برس میں مکمل ہو کر بروئے کار آنا چاہیے تھا وہ اگر دہائیوں پر محیط ہو جائیں تو ان کے معاشی فوائد کس کام کے رہیں گے۔ اس بحران کا ایک تشویشناک رخ یہ بھی ہے کہ تاخیر کے سبب تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنی ترجیحات کا ازسر نوجائزہ لیں۔ موسمیاتی چیلنجز کے اس کٹھن دور میں آبی منصوبوں کو تمام دیگر ترقیاتی منصوبوں پر فوقیت دینا ہو گی کیونکہ پانی زندگی کی بقا ہے اور اس کے بغیر کوئی ترقیاتی منصوبہ کام نہیں آ سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں