اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجٹ‘ دعوے اورحقیقت

 وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف‘ کینسر اور دیگر سنگین امراض کی ادویات کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے‘ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ایکسپورٹ انکم پر عائد ڈویلپمنٹ سرچارج کے خاتمے سمیت مثبت اور معیشت کے لیے خوش آئند تجاویز شامل ہیں۔ بلاشبہ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں تاہم کسی بھی بجٹ کی کامیابی یا عوام دوستی کا اصل پیمانہ بجٹ تقریر کے اعلانات نہیں بلکہ عوام کی عملی زندگی میں آنے والی بہتری ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی سروے 2025-26ء ایک ایسی دستاویز ہے جو گزشتہ مالی سال کی معاشی و سماجی کارکردگی کا عکس پیش کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے بجٹ کو بھی عوام دوست قرار دیا گیا تھا لیکن اقتصادی سروے کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ سب سے تشویشناک پہلو بے روزگاری اور غربت کا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد جبکہ غربت کی شرح 28.9فیصد تک پہنچ گئی ہے جو مالی سال 2018-19ء میں 21.9فیصد تھی۔

اسی طرح سروے کے مطابق پاکستانی عوام نے مہنگائی کے باعث چھ برس پہلے کے مقابلے میں گندم‘ چاول‘ دالوں‘ دودھ اور گوشت کا استعمال کم کر دیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے‘ پروٹین اور غذائیت سے بھرپور اشیا کے استعمال میں کمی مستقبل میں صحت کے مزید بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔ تعلیم کے شعبے کی صورتحال بھی کسی طور حوصلہ افزا نہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے 0.8 فیصد رہے جبکہ رواں مالی سال کیلئے یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً 0.75 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم تعلیم میں سرمایہ کاری کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ صحت کا شعبہ بھی حکومتی ترجیحات میں پس منظر میں دکھائی دیتا ہے جس پر اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رواں مالی سال حکومتی ریلیف صرف اعلانات تک محدود رہا ہے۔

حقیقی ریلیف تب محسوس ہوتا ہے جب مہنگائی کم ہو‘ روزگار کے مواقع بڑھیں‘ معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات دستیاب ہوں اور عام آدمی اپنی آمدنی سے باعزت طریقے سے خوراک‘ علاج اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کر سکے۔نئے مالی سال کا بجٹ اسی وقت عوام دوست ثابت ہو سکتا ہے جب اس کے نتائج عوام کی زندگی میں واضح طور پر محسوس ہوں۔ اس کیلئے حکومت کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کو اولین ترجیح بنانا ہو گا‘ عوام کی معاشی سکت کو بڑھانا ہو گا‘ تعلیم کیلئے قومی وسائل میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا اور صحت کے شعبے میں ایسی سرمایہ کاری کرنا ہوگی جو عام آدمی کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں