اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجٹ 27-2026ء: توقعات اور اثرات

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27ء پیش کر دیا ہے‘ جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ اور تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ بجٹ کے اہم نکات کی بات کی جائے تو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 6.8 فیصد زیادہ ہے‘ جس میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 8054 ارب روپے‘ دفاعی بجٹ کیلئے 3000 ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ بجٹ خسارہ 7020ارب ہے‘ جو گزشتہ سال کے 7501ارب کی نسبت 6.4 فیصد کم ہے۔ نامکمل معاشی اہداف‘ بیرونی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبی معیشت اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کی مسلسل تگ ودو میں مالی سال 2027ء کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے‘ اس پر مختلف طبقات کی جانب سے مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کم کرنے سے تنخواہ دار طبقے‘ جو کئی سالوں سے سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہا تھا‘ کو کچھ ریلیف ملا ہے‘ تاہم ماہانہ پچاس ہزار روپے آمدن کی انکم ٹیکس حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دو سال بعد کم از کم اجرت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور دس فیصد اضافے کے بعد 40 ہزار 700 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اگر بجٹ کے دیگر نکات کا جائزہ لیا جائے تو آبی تحفظ کے منصوبوں پر سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔

آبی وسائل کیلئے 103ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے‘ جو گزشتہ برس 133 ارب روپے تھے۔ دیگر منصوبوں میں مہمند ڈیم کیلئے 22 ارب‘ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کیلئے 21 ارب‘ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 14ارب اور کراچی کے فور منصوبے کیلئے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا سامنا ہے اور بارشوں کا دورانیہ سکڑنے کے سبب آبی قلت کے مسائل شدید تر ہو رہے ہیں‘آبی منصوبوں میں کم سرمایہ کاری حیران کن ہے۔ دوسری جانب جاری مال سال کے ابتدائی گیارہ ماہ میں 868ارب روپے کے خسارے کے تناظر میں ایف بی آر کے محصولات میں آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جاری مالی سال میں ایف بی آر گیارہ ماہ میں 11227 ارب روپے ہی جمع کر سکا‘ اب آئندہ مالی سال میں15 ہزار 264 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ٹیکس خسارے کے تناظر میں یہ ہدف کتنا حقیقی و عملی ثابت ہو گا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے اور فائلرز کیلئے جائیداد کی خرید پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے سے تعمیراتی شعبے میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔

بڑی صنعتوں اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے سپر ٹیکس کے خاتمے اور برآمدی آمدن پر ٹیکس وصولی کی شرح دو فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ بجٹ کا ایک قابلِ ذکر نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح نمو کا ہدف چار فیصد رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کے 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں کم ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ پالیسی ساز مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے پیدا ہونے والے بیرونی چیلنجز کے تناظر میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں اور اسی لیے بڑے اہداف کے بجائے سست رو مگر تسلسل کی پالیسی پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے جو بجٹ پیش کیا گیا اس پر 15 جون سے بحث کا آغاز ہونے اور بجٹ سیشن 29 جون تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران اتحادی جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن کی جانب سے بھی ترامیم و تجاویز پیش کی جائیں گی۔ حکومت کو ان تجاویز کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبوں کے سٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ آئندہ مالی سال کیلئے ایک قابلِ عمل میزانیہ بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں