اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ریبیز کے واقعات

گزشتہ روز کراچی میں ریبیز سے متاثرہ ایک اور مریض دم توڑ گیا۔ رواں سال کراچی میں ریبیز سے لقمۂ اجل بننے والا یہ  14واں مریض تھا‘ جبکہ سندھ میں رواں سال اپریل تک کتے کے کاٹے کے 85ہزار سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو ئے ۔ پنجاب میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جہاں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران 5 لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد ڈاگ بائٹ کا شکار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی سطح کی تشویش بن چکا ہے۔ سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات میں اصل مسئلہ آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی ہی نہیں ان سے نمٹنے کیلئے مربوط اور مستقل حکمتِ عملی کا فقدان بھی ہے۔

پنجاب کی اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021ء اور سندھ میں جاری پروگرامز کی رفتار‘ وسعت اور تسلسل وہ نتائج پیدا نہیں کر رہے جو زمینی سطح پر درکار ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اس مسئلے کو ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے طور پر دیکھیں۔ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کیلئے سائنسی بنیادوں پر سٹرلائزیشن اور مسلسل مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔علاوہ ازیں سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی فراہمی بھی ناگزیر ہے تاکہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ شخص بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لگوا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں