اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاسی مذاکرات ناگزیر

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی‘ معاشی چیلنجز اور سکیورٹی خدشات کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن کی جانب مفاہمت کا ہاتھ بڑھانا خوش آئند ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئین‘ قانون اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے مذاکرات ضروری ہیں۔ بلاشبہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مکالمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں باہمی رابطے کے فقدان نے سیاست میں جو زہر گھولا ہے اس کے منفی اثرات ملکی حالات و واقعات سے ظاہر و باہر ہیں۔ داخلی تقسیم نہ صرف شدت پسند عناصر کو فائدہ پہنچاتی بلکہ ریاستی اداروں کی توجہ بھی بنیادی ترقیاتی اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ہٹا دیتی ہے۔

موجودہ علاقائی صورتحال اور اندرونی سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کا مل بیٹھنا ناگزیر ہے۔ تاہم صرف مذاکرات کی دعوت کافی نہیں ہوتی ضروری ہے کہ اس دعوت کو سنجیدہ اور بامقصد عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ فریقین کو اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنی ہو گی اور ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔ ملک کو آج جس سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اس میں اتفاقِ رائے اور قومی یکجہتی کسی بھی سیاسی کامیابی سے زیادہ اہم ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو استحکام‘ ترقی اور پائیدار جمہوریت کی جانب لے جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں