معاشی استحکام اورنمو
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو ترقی کے فروغ کیلئے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ معاشی ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا‘ ہم معاشی ترقی کی طرف چل پڑے ہیں‘ معیشت درست سمت میں گامزن ہے‘اب ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ کا دعویٰ توجہ طلب ہے۔ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ‘ کاروباراور برآمدات کے شعبوں کیلئے مثالی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جائیدار کی خریدو فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 50سے 80فیصدکمی اور جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹرانزیکشن لاگت میں کمی کو رئیل اسٹیٹ کے شعبے کیلئے نمایاں ریلیف قرار دیا جا سکتا ہے جس کے اثرات مارکیٹ سرگرمیوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔ ان مراعات کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا‘ جو درجنوں چھوٹے بڑے شعبوں کے ساتھ منسلک ہے۔ یوں امید کی جاتی ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس طرح برآمد کنندگان کو سپر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا اور آئی ٹی کی برآمدات پر ٹیکس کی 0.25فیصد شرح کو جون 2029ء تک توسیع دینا‘ ایسے فیصلے ہیں جو ملک کو کاروبار دوست اور سرمایہ کاری کیلئے پُرکشش منزل بنانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان اقدامات کو کافی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ اس خطے میں دیگر ممالک اس سے زیادہ سہولتیں دے رہے ہیں مگر یہ درست سمت میں پیشرفت یقینا حوصلہ افزا ہے اور معاشی نمو کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم معیشت کے متعدد شعبے اب بھی ایسے ہیں جو محرومی کا شکار ہیں۔ ان میں زراعت کا شعبہ قابلِ ذکر ہے جس کا ذکر وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بھی کیا ۔ بجٹ میں اس شعبے کیلئے بھی کئی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جیسا کہ زرعی مشینری پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی صفر اور زراعت کیلئے قرضوں کے حجم میں اضافے کی تجویز۔اس سے ممکن ہے زراعت کی نمو پر مثبت اثر پڑے مگر زراعت کو معیشت کا مضبوط بازوبنانے کیلئے اس سے کہیں زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کا کسان کمزور مالی حیثیت ‘ جدید تکنیکی وسائل کی کمیابی اور جدید رجحانات سے کم آگاہی کا شکار ہے ۔ اس کا نتیجہ ہمیں ہر سال خوراک کے شعبے میں بڑھتی ہوئی درآمدات کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔
یہ شعبہ ٹیکسٹائل جیسے کلیدی برآمدی شعبے کی ترقی کا ضامن بھی بن سکتا ہے اور خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافے سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کی یافت ہو سکتی ہے‘ بشرطیکہ زراعت کو ترقی یافتہ بنیادوں پراستوار کیا جائے۔ کسانوں کیلئے قرضوں کے حجم میں قدرے اضافہ کافی نہیں‘ زراعت کو معیشت کی مضبوط بنیاد بنانے کیلئے ٹھوس اور جامع حکمت عملی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر اس بجٹ میں معاشی نمو کا پوٹینشل موجود ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان مراعات کی فراہمی اور انکے نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے کمرِ ہمت باندھ لے۔ ٹیکس کو چند ایک شعبوں پر مرکوز رکھنے کے بجائے اس دائرے کو وسیع کر نے کے حوالے سے بجٹ میں کئی اقدامات شامل ہیں جیسا کہ چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس کا نفاذ ‘ مگراب یہ ذمہ داری ٹیکس وصولی کے اداروں کی ہو گی کہ وصولی کو یقینی بنانے کیلئے قابلِ عمل اور مثالی حکمت عملی وضع کریں۔
مالی سال 2026-27 ء اس حوالے سے ایک مثالی سال ہو گا کہ اسکے دوران ان اقدامات کے نتائج کو پرکھا جائے گا جو حکومت نے مراعات کی صورت میں مختلف شعبوں کو فراہم کی ہیں۔ ان سہولتوں کا اثر زیر بحث مالی سا ل کے دوران ریونیو ‘ برآمدات اور ملازمت کے مواقع میں اضافے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ مالی سال 2026-27 ء اس حوالے سے ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔