اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جنگلات کا بے دریغ کٹائو

قومی اقتصادی سروے رپورٹ نے ملک میں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے دعووں پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات کی تیز رفتار اور بے دریغ کٹائی کا سلسلہ تھم نہیں سکا اور ہر سال اوسطاً 27 ہزار ایکڑ سے زائد جنگلاتی رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران شعبہ جنگلات کی شرح نمو محض دو فیصد ریکارڈ کی گئی جو حکومتی ہدف 3.5 فیصد سے نمایاں کم ہے۔ یہ محض ایک ادھورا معاشی ہدف نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کی تشویشناک صورتحال کا اظہار ہے۔ جنگلات کے رقبے میں کمی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ رقبہ مری کے شہری علاقے کے مساوی ہے‘ یعنی ہم ہر سال مری کے برابر رقبے کے سرسبز جنگلات بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور ٹمبر مافیا کی نذر کر رہے ہیں۔

درخت زمین کا دفاعی حصار ہوتے ہیں‘ جو سیلاب کی شدت کو روکتے‘ درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے اور مضر گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں طوفانی آندھیوں‘ غیر متوقع بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ آفات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ حکومت کو جنگلوں کی کٹائی کو فوجداری جرائم میں شامل کرنا چاہیے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی بقا کو ممکن بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں