امن معاہدہ اور خدشات
اس اختتامِ ہفتہ پر امریکہ ایران امن معاہدے پر ٹھوس پیش رفت کی امید کی جا رہی تھی مگر حسبِ سابق اس بار بھی اسرائیلی جارحیت آڑے آئی اور امن کا امکان ایک بار پھر دگرگوں ہو گیا۔ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی جارحیت امریکہ ایران امن معاہدے کی عملی صورت میں رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔ اس سے پہلے بھی یہ ہو چکا ہے کہ جب بھی امن معاہدے کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت متوقع ہوتی ہے لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا زور بڑھ جاتا ہے اور یہ صورتحال ایران کو امن معاہدے سے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے پر دستخطوں کا عندیہ دے رہے تھے مگر اسی صبح اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رہائشی علاقوں کو ایک بار پھر نشانہ بنا کر ایران کیلئے امن معاہدے پر دستخط سے انکار کا جواز پیدا کر دیا۔ گزشتہ ہفتے بھی اسرائیل کی اسی حرکت کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کئے گئے جن کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران پر میزائل داغے۔

اپریل کی جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں میں میزائل حملوں کے تبادلے کا یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا جس نے کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ پیدا کر دیا تاہم صدر ٹرمپ کی مداخلت سے کشیدگی پھیلنے سے رک گئی۔ گزشتہ روز کی اسرائیلی جارحیت پر بھی امریکی صدر نے یہ کہہ کر کہ اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا‘ معاملات کو بگڑنے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے لبنان میں کہیں بھی مزید حملے نہیں ہونے چاہئیں۔ اس تاکید کے بعد دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اسرائیل امریکی صدر کے کہے کا کتنا اثر لیتا ہے۔ کہنے کو تو لبنان کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ تلخ وترش گفتگو بھی ہوئی مگر لبنان بدستور اسرائیلی جارحیت کے نشانے پر ہے۔ یہ صورتحال خطے کے ممالک سمیت امریکہ کیلئے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے کہ امریکی لے پالک اب اس کے کہے میں بھی نہیں۔ امریکہ ایران امن معاہدہ دونوں ملکوں‘ خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے مگر صہیونی ریاست مشرق وسطیٰ میں امن کے اس امکان سے مایوس اور غیر مطمئن دکھائی دیتی ہے؛ چنانچہ اب تک پوری کوشش کے ساتھ وہ اس بیل کو منڈھے چڑھنے سے روکے ہوئے ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو مجوزہ امن معاہدے کے ثمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی سعی کرنی چاہیے۔
اسرائیل بدنیتی اور بار بار جارحیت کے ارتکاب سے اگر اس امن معاہدے کی راہ روکنا چاہتا ہے تو امریکہ اور ایران کو چاہیے کہ اسرائیل کو اس کے مذموم ارادوں میں کامیاب نہ ہونے دیں اور امن معاہدے کی جانب عملی پیشرفت کر دکھائیں‘ کیونکہ امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کی بھی یہ بڑی ضرورت ہے تاکہ صدر ٹرمپ اس جنگی بکھیڑے سے نکل کر اسی سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر توجہ دے سکیں۔ انتخابات سے قبل حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت نمایاں طور پر بہتر ہونی چاہیے مگر صدر ٹرمپ کی قومی منظوری کی ریٹنگ تقریباً 35 فیصد اور نامنظوری کی 60 فیصد ہے۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق صدر کی خالص منظوری کی درجہ بندی اس وقت منفی25 ہے جو پچھلے ہفتے سے 0.8 پوائنٹس کم ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت کی مقبولیت کو افراط زر‘ پٹرول کی قیمتوں اور ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی گراوٹ کا سامنا ہے۔
ایران بھی یقینا جنگ کے ماحول سے نکلنے کا خواہشمند ہوگا تا کہ تعمیر نو اور ملکی معاملات پر توجہ دے سکے۔ مگر اسرائیل کیلئے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی پیشرفت سوہانِ روح بنی ہوئی ہے اور یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ‘ ایران اور خطے کے ممالک اسرائیل کے ان معاندانہ منصوبوں کو سمجھتے ہوئے تحمل سے آگے بڑھیں‘ نہ کہ اپنا حال اور مستقبل صہیونی سازشیوں کے ہاں رہن رکھ چھوڑیں۔