اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گلوبل پیس انڈیکس

انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے گلوبل پیس انڈیکس میں پاکستان کو دنیا کے 163 ممالک کی فہرست میں چھ درجے تنزلی کے بعد 152ویں نمبر پر دکھایا گیا ہے۔ امن و امان کے گراف میں یہ گراوٹ 2017ء کے بعد سے اب تک کا سب سے نچلا مقام ہے۔ یہ انڈیکس پاکستان میں مسلسل بڑھتے سکیورٹی خدشات اور شہریوں کے عدم تحفظ کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ملکی رینکنگ میں گراوٹ کے اسباب پر نظر دوڑائی جائے تو مغربی سرحدوں کی صورتحال اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہے۔ افغانستان میں سیاسی تبدیلی اور وہاں پائے جانے والے مستقل عدم استحکام نے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے سکیورٹی مسائل کو سنگین بنایا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندوں کو وہاں ملنے والی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کی داخلی سکیورٹی کو شدید متاثر کیا ہے۔

علاوہ ازیں بگڑتی علاقائی صورتحال‘ خلیجی جنگ اور معاشی عدم استحکام نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو وہاں غربت‘ بیروزگاری اور جرائم کی شرح بڑھنے لگتی ہے‘ جس کا براہِ راست اثر سماجی امن پر پڑتا ہے جبکہ معاشی مسائل سے سکیورٹی وسائل بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ سیاسی تنائو نے بھی سکیورٹی خدشات کو بڑھاوا دیا ہے۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اقتصادی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے‘ لہٰذا ضروری ہے کہ ان مسائل کا سدباب کیا جائے جو ملک عزیز میں امن و امان کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں