اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جنگ اور معیشت

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدے کے باوجود توانائی کا بحران برقرار ہے اور جنگ کے نتیجے میں سپلائی چین کو پہنچنے والے تعطل کو مکمل طور پر ختم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ یہ انتباہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہرچند کہ ایک خوش آئند پیش رفت اور عالمی امن کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے مگر اس جنگ کے معاشی اثرات ابھی باقی ہیں۔ جنگوں کی تباہ کاریاں دنوں میں جنم لیتی ہیں لیکن معاشی ڈھانچے کو پہنچنے والے اس کے نقصانات دہائیوں تک ختم نہیں ہوتے۔ دیکھا جائے تو یہ صورتحال امن کی اہمیت کیلئے بذاتِ خود ایک بڑی دلیل ہے ۔ خلیج فارس کے خطے میں پیدا ہونے والا بحران محض ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پوری دنیا کے مالیاتی اور پیداواری نظام کو متاثر کیا ہے۔ سفارتی میز پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ایک الگ عمل ہے لیکن بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد کو بحال کرنا ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہو گا جس کیلئے دنیا کو طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

اس جنگ کی وجہ سے توانائی‘ بین الاقوامی شپنگ اورفریٹ انشورنس سمیت معیشت کے متعدد اہم شعبے شدید متاثر ہوئے‘ جو عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تجارتی بحری جہازوں کیلئے فریٹ انشورنس اور وار رِسک پریمیم اس حد تک بڑھ گئے کہ عالمی تجارت مالی طور پر خسارے کا سودا بن کر رہ گئی۔ ایران‘ امریکہ جنگ نے عالمی معیشت کو جو مجموعی معاشی نقصان پہنچایا ہے‘ حالیہ گلوبل پیس انڈیکس میں اسکا محتاط تخمینہ 2000ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے‘ جو عالمی جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر بنتا ہے۔ اتنے بڑے مالیاتی نقصان کے بعد عالمی معیشت کو پہلے والی سطح پر آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ کئی بڑی معیشتیں اب تک کورونا کی عالمی وبا کے معاشی جھٹکے کے اثرات ہی سے نہیں نکل پائی تھیں کہ امریکہ کی اس جنگ نے مزید سنگین بحران پیدا کردیا اور معیشت کوعشروں پیچھے دھکیل دیا۔ تاہم اس جنگ کے بھیانک اثرات نے دنیا بھر کی حکومتوں اور پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے ایسی حکمتِ عملی بنائی جائے جس سے عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ہر ملک اپنی داخلی معیشت کو معاشی جھٹکے سہنے کے قابل بنائے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جو ہنگامی حالات میں معاشی تسلسل کو برقرار رکھ سکیں۔

معاشی تحفظ کیلئے یہ ناگزیر ہو چکا کہ توانائی کے ذخائر کو نہ صرف مستحکم بنایا جائے بلکہ ان میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہو۔ حالیہ بحران نے یہ بھی ثابت کیا کہ کسی ایک خطے یا چند ممالک کے توانائی وسائل پر حد سے زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سپلائی چین کو متنوع بنانے کے ساتھ مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف تیزی سے پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی داخلی معیشت پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ موجودہ بحران کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ اب دنیا کو ایسے دور کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں سیاسی تعلقات اور معاشی مفادات کو الگ الگ رکھا جائے۔ اس کیلئے گلوبل چارٹر آف اکانومی وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ علاقائی اور عالمی کشیدگی کا بھگتان اقوام اور افراد معاشی مسائل کی صورت میں بھگتتے ہیں ۔وقت آ گیا ہے کہ باہمی اختلافات سے نمٹتے ہوئے معاشی استحکام یقینی بنانے کی جانب پیش قدمی کی جائے۔

امریکہ ایران جنگ کے اثرات سے یہ بھی واضح ہوا کہ جنگوں کے اثرات متحارب ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی معاشی ڈھانچے میں کسی نہ کسی طرح یہ اثرات علاقائی اور عالمی سطح تک اپنا اثر دکھاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے اس تازہ ترین تلخ تجربے سے دنیا نے کیا سیکھا ؟ کیا یہ آنیوالا وقت عالمی امن کیلئے محفوظ اور معیشت کیلئے سازگار ہو گا؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں