موسمیاتی بحران
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے حالیہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلا سال گزشتہ چار دہائیوں کا گرم ترین سال ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ہیٹ ویوز میں 30سے 32فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سپارکو کی ایک حالیہ رپورٹ اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ایل نینو کے باعث پاکستان میں مون سون کی بارشوں میں کمی‘ سردیوں میں غیرمعمولی گرمی اور موسموں کے روایتی توازن میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کیلئے ایل نینو کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں بلکہ یہ بارشوں کے نظام‘ فصلوں کی پیداوار‘ پانی کے ذخائر اور شہری زندگی تک کو متاثر کرتے ہیں۔

بارشوں میں کمی کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی‘ پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں جبکہ طویل اور شدید گرمی شہری علاقوں میں ہیٹ سٹریس اور صحت کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے آئندہ بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنڈز مختص کیے ہیں مگر یہی کافی نہیں بلکہ ایسی جامع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے جو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے تحقیق‘ تیاری اور عملی اقدامات کو یکجا کرے۔