اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی بحران

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے حالیہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلا سال گزشتہ چار دہائیوں کا گرم ترین سال ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ہیٹ ویوز میں 30سے 32فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سپارکو کی ایک حالیہ رپورٹ اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ایل نینو کے باعث پاکستان میں مون سون کی بارشوں میں کمی‘ سردیوں میں غیرمعمولی گرمی اور موسموں کے روایتی توازن میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کیلئے ایل نینو کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں بلکہ یہ بارشوں کے نظام‘ فصلوں کی پیداوار‘ پانی کے ذخائر اور شہری زندگی تک کو متاثر کرتے ہیں۔

بارشوں میں کمی کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی‘ پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں جبکہ طویل اور شدید گرمی شہری علاقوں میں ہیٹ سٹریس اور صحت کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے آئندہ بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنڈز مختص کیے ہیں مگر یہی کافی نہیں بلکہ ایسی جامع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے جو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے تحقیق‘ تیاری اور عملی اقدامات کو یکجا کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں