تعمیری مکالمے کی ضرورت
پاکستان تحریک انصاف کے پانچ سینئر رہنماؤں کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل سے لکھا گیا خط ملک کی ایک اہم سیاسی ضرورت کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ ان رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی‘ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان پر زور دیا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی مفاہمتی پیشکش کا مثبت جواب دیں اور محض چارٹر آف اکانومی کے بجائے ایک جامع چارٹر آف پاکستان کی تشکیل کیلئے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان گزشتہ چار برس سے شدید سیاسی کشمکش کا شکار ہے ‘ جس کے اثرات معیشت اور عوامی زندگی پر بھی نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر صرف معاشی پالیسیوں کے تسلسل کی بات کی جائے اور سیاسی بحران کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ مسئلے کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا۔ معاشی استحکام کا انحصار سیاسی استحکام پر ہوتا ہے۔

دنیا کے کامیاب ممالک کی مثالیں یہی ثابت کرتی ہیں کہ جہاں سیاسی اتفاقِ رائے ہے وہاں اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہے اورجہاں سیاسی بے یقینی اورمحاذ آرائی ہے وہاں معیشت جمود کا شکار ہے۔ ملکِ عزیزکا تجربہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ سیاسی بحرانوں نے معاشی مشکلات کوبڑھاوا دیا۔ پچھلے چار برس ملکی سیاسی تاریخ کا نہایت گمبھیر دور ثابت ہوا۔ سیاسی اختلافات تو ماضی میں بھی رہے ہیں مگر اختلافات کی جو نوعیت اورشدت 2022ء کے بعد دیکھنے کو ملی اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اس دوران جلسے‘ احتجاج‘ دھرنے‘ لانگ مارچ اور جلاؤ گھیراؤ‘ سیاست کے نام پر کیا کچھ نہیں ہوا‘ مگر اس قسم کے سیاسی رویوں سے ملک کو مثبت سمت میں نہیں لے جایا جا سکتا۔ پاکستان 25کروڑ آبادی کا ملک ہے جس میں نوجوان کم وبیش 60فیصد ہیں۔ انہیں تعلیم‘ روزگار اور معاشی تحفظ درکار ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کشمکش میں مصروف رہیں تو یہ ہمالیائی معرکہ کیونکر سر ہو سکتا ہے؟ قومی ترقی اور معاشی استحکام ہر صورت میں سیاسی استحکام کا تقاضا کرتے ہیں‘ مخاصمت اور محاذ آرائی کی سیاست کا کوئی ثمر نہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ سیاسی فریق اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کریں اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد اور شخصی انا پر فوقیت دیں۔ آج پاکستان کو سیاسی بصیرت اور برداشت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور ایک ایسے سیاسی میثاق کا تصور اسی تناظر میں اہمیت کا حامل ہے جس میں آئین کی بالادستی‘ جمہوری تسلسل‘ انتخابی عمل کی شفافیت‘ بنیادی حقوق کے تحفظ اور قومی مفادات پر اتفاقِ رائے جیسے نکات شامل ہوں۔
جب تک ان بنیادی امور پر سیاسی اتفاق پیدا نہیں ہو جاتا معاشی استحکام کی جانب یقینی پیش رفت میں رکاوٹیں درپیش رہیں گی۔ پاکستان اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی قوتوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو دہراتی رہیں گی یا مستقبل کی تعمیر کیلئے مشترکہ راستہ اختیار کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر آئیں اور قومی مفاد میں ایسے فیصلے کریں جو ملک کو سیاسی استحکام‘ جمہوری تسلسل اور معاشی خوشحالی کی طرف لے جا سکیں۔ پائیدار حل محاذ آرائی میں نہیں مکالمے اور اتفاقِ رائے میں ہے۔ حالیہ دنوں حکومت اور حزبِ اختلاف‘ ہر دو جانب سے ایسے تاثرات کا اظہار خوش آئند‘ جن میں مفاہمت اور سیاسی مشاورت کی پیشکش موجود ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کو بات چیت کیلئے بار دگر دعوت دی جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی اگلے روز کہہ چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو سیاسی مشاورت کی پیشکش کرتے ہیں۔ یہ تاثرات خوش آئند ہیں مگر زبانی پیشکش کافی نہیں‘ سیاسی فریقین میں تعمیری اور عملی مذاکرات کی ضرورت ہے۔