اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم کمی کے اثرات

پٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لٹر کمی کا اعلان خوش آئند ہے اور امریکہ ایران امن معاہدے کا ثمر ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی سے عام آدمی شدید مشکل میں ہے‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عوام کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہو گی۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی مثبت صورتحال کا ثمر عوام تک منتقل کیا جا گیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ روزمرہ زندگی کی اشیا پر اس کے اثرات کس حد تک ہوں گے؟ ملک میں جب بھی پٹرول یا ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایے فوری بڑھا دیے جاتے ہیں لیکن جب ایندھن سستا ہو تو کرایوں میں کمی شاذونادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہی صورتحال اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کے معاملے میں بھی ہے۔

حکومت کی ذمہ داری صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تک محدود نہیں ‘ اس کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ٹرانسپورٹ کرایوں‘ اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی فوراً متناسب کمی آئے۔ اس مقصد کے لیے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حقیقی فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب حکومت اس ریلیف کو معیشت کے دیگر شعبوں تک منتقل کرنے کے لیے مؤثر‘ سخت اور مسلسل اقدامات کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں