مہنگائی میں اضافہ
وفاقی ادارۂ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 15.28فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر پیاز کی قیمت میں تقریباً 80فیصد‘ ٹماٹر 69فیصد‘ آٹا 59فیصد‘ بجلی 60فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 53فیصد اضافہ ہوا ۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کی اکثریت اب خوراک‘ بجلی‘ ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناقص نگرانی اور بازاروں پر مؤثر کنٹرول کا فقدان قیمتوں کو مسلسل اوپر دھکیل رہا ہے۔ تاہم سب سے تشویشناک پہلو عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید ہے۔

حالیہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال میں صرف وقتی ریلیف کافی نہیں۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی‘ قیمتوں کی مؤثر نگرانی‘ سستے بازاروں کے دائرہ کار میں توسیع اور سب سے بڑھ کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر حکومت نے فوری اور موثر اقدامات نہ کیے تو بڑھتی ہوئی مہنگائی صرف معاشی دباؤ ہی نہیں بلکہ سماجی بے چینی اور عدم استحکام کو بھی جنم دے سکتی ہے۔