پائیدار معیشت کی بنیاد
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026-27 ء کا بجٹ گزشتہ دو سالوں میں حاصل کی گئی ترقی کو پائیدار بنیاد فراہم کرے گا۔ بجٹ کے حوالے سے یہ باتیں خوش آئند ہیں اور صنعتی اور کاروباری حلقے بھی بجٹ پر عمومی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں مگر معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام کیلئے ملکی برآمدات میں اضافہ ایک ناگزیر عمل ہے‘ تاہم ملک عزیز کے وسائل اور صلاحیتوں کے مقابلے میں ہماری برآمدات خاصی کم ہیں اور ان میں نمو نہایت سست ہے۔ پچھلے پانچ برس کا جائزہ لیا جائے تو برآمدات کا سالانہ حجم 31ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباًساڑھے پانچ فیصد کم ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 29.563 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں جبکہ رواں سال کے اس عرصہ میں 27.904 ارب ڈالر کی۔

برآمدات کا جمود یا تنزل معیشت کے حوالے سے تشویشناک منظر کشی کرتا ہے۔ضروری ہے کہ اس حوالے سے درپیش رکاوٹوں کودورکیا جائے۔ یہ رکاوٹیں زیادہ تر بیرونی نہیں داخلی ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی مصنوعات کو بدستور اہمیت حاصل ہے اور دنیا کے تمام بڑے ممالک میں ان مصنوعات کی کھپت ہے ۔ حکومتی سطح پر بھی پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی سہولیات حاصل ہیں جیسا کہ یورپ میں جی ایس پی پلس ‘ امریکہ میں اس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کم ٹیرف اور چین کیساتھ تجارتی معاہدے کے تحت چینی مارکیٹ تک ڈیوٹی فری رسائی۔ان سہولتوں سے برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے مگر یہاں اسکے برعکس ہے۔ صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں۔ مہنگی توانائی‘ ٹیکسوں کی اونچی شرح ‘ مہنگے قرضے ‘ سکیورٹی کے مسائل ‘ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور سیاسی عدم استحکام صنعتی ترقی کی راہ کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ آنیوالے مالی سال کو اگر پائیدار ترقی کی بنیاد بنانا ہے تو ان رکاوٹوں کو دور ہونا چاہیے ۔حکومت نے بجٹ میں صنعتی شعبے کیلئے بعض ٹیکسوں کی شرح میں کمی کا جو فیصلہ کیا ہے اسکی اہمیت اپنی جگہ مگر یہ کافی نہیں۔ صنعتی ترقی کیلئے سستے قرض‘ سستی توانائی ‘ سرمایہ کاری کیلئے پُر کشش حالات اور ملک میں امن و امان یقینی بنانا ہو گا۔
امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ باعثِ تشویش تھا مگر اب جبکہ یہ تنازع ختم ہو چکا اور امن کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد بجلی کے نرخوں میں کمی اور شرح سود میں بھی کمی کی ضرورت ہے تا کہ صنعتیں سستی توانائی کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے حصول میں بھی آسانی محسوس کریں۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی واقع ہوئی۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 1.6ارب ڈالر کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہے۔برآمدات اور سرمایہ کاری سمیت معیشت کے متعدد اہم شعبوں میں سال بسال کمی تشویش کا باعث ہے اور آنے والے مالی سال کو اگر معاشی نمو ‘ ترقی اور استحکام کا سال بنانا ہے تو ان مسائل کے اسباب کو سمجھ کر ان کا ازالہ کیے بغیر ایسا ممکن نہ ہو گا۔
نئے مالی سال کو معاشی ترقی کا سال بنانے کیلئے معاشی فیصلوں میں توازن اور اعتدال کی ضرورت ہو گی۔ بجٹ کی حد تک اسکے آثار موجود ہیں تاہم ہمارے ہاں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ حکومتیں منی بجٹ کی صورت میں کب اپنے پہلے فیصلوں کو تبدیل کر دیں۔مالی سال 2027ء میں سابقہ غلطیوں کو دہرانے کی قطعی گنجائش نہیں۔ پاکستان کو معاشی استحکام اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب معاشی فیصلہ سازی میں ان عوامل کو پیش نظر رکھا جائے جو اس وقت ملکی معیشت کے پاؤ ں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں۔