بنوں میں دہشت گردی
گزشتہ روز بنوں میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے‘ جن میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوئے‘ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال مئی میں ملک میں دہشت گردی کے 128واقعات ہوئے جن میں سے57واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے۔ صوبے کے جنوبی اضلاع خاص طور پر بنوں کا علاقہ دہشتگردی کے ان واقعات سے شدید متاثر ہے۔ بظاہر اس کی وجہ قبائلی پٹی سے جغرافیائی قربت بھی ہو سکتی ہے اور ان علاقوں میں سکیورٹی کا کمزور نظام بھی جس کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد اس علاقے میں مسلسل متحرک ہیں۔ دہشت گردی کی یہ لہر جو براستہ قبائلی پٹی افغانستان سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے ‘ کو توڑنے کیلئے صوبے میں سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے چیلنجز بڑے ہیں؛ چنانچہ بچاؤ کے اقدامات کو بھی اسی حساب سے بڑا ہونا چاہیے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ پولیس کی تربیت اور ہتھیاروں پر حکومت خصوصی اخراجات کرے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بجٹ میں 191ارب روپے امن وامان کے انتظامات کیلئے مختص کیے ہیں جو کہ مالی سال 2026 ء سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ سکیورٹی انتظامات کے بجٹ میں اضافہ صوبائی حکومت کی عزم کی دلیل ہے مگر اعدادوشمار کا فائدہ اسی صورت میں برآمدا ہو سکتا ہے جب یہ رقوم پوری اور درست ترجیحات پر صرف ہوں۔