اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایل پی جی، منافع خوری

پاکستان کی کاوشوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہوتے نظر آ رہے ہیں مگر اس کشیدگی کے سبب ملک کے اندر مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا جو طوفان اٹھا تھا اس کی گرد تاحال بیٹھتی نظر نہیں آ رہی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ایل پی جی کی قیمتیں ہیں‘ جن کی آڑ میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے مگر بازار میں گیس 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نام پر گزشتہ تین ماہ سے صارفین ناجائز منافع خوروں کے نرغے میں ہیں مگر حکومتی اور انتظامی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

ایل پی جی گھریلو استعمال کے علاوہ تنوروں‘ ریستورانوں‘ چھوٹی صنعتوں اور رکشہ وغیرہ میں بھی بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے مگر سرکار اور بازار کی قیمتوں میں اس قدر تفاوت نے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی بحال ہونے کا ریلیف عوام تک پہنچانے کیلئے حکومت کو اب زیادہ قوت کے ساتھ متحرک ہونا چاہیے۔ ایل پی جی کے محض نرخ مقرر کر دینا کافی نہیں‘ بلکہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے‘ عوامی ریلیف کیلئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں