اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بڑھتی آبادی اور خدشات

حکومتی اہداف‘ وسائل اور مسائل کے تناظر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی طویل مدتی اقتصادی ترقی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے‘ جو ملکی وسائل‘ بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے۔ معاشی ترقی کی سست روی اور دستیاب وسائل کی قلت کے باعث حکومت کیلئے اتنی بڑی آبادی کو تعلیم‘ صحت اور روزگار کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب حکومت بڑھتی آبادی کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ مگر دیکھا جائے تو یہی آبادی ملکی معیشت کیلئے ترقی کا محرک بھی ثابت ہو سکتی ہے‘ بشرطیکہ اسے درست سمت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ اربابِ اختیار کو چاہیے بڑھتی آبادی کو مسئلہ کے بجائے ایک موقع بنانے کے اقدامات کریں۔

اس حوالے سے چین کی صورت میں ایک قابلِ تقلید مثال موجود ہے‘ جس نے اپنی بڑھتی آبادی کو معاشی بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے منظم انسانی سرمائے میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور نتیجتاً آج چین کی ایک ارب سے زائد آبادی اس کی ترقی میں انجن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کی لگ بھگ60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ اگر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی‘ زراعت اور صنعتی شعبوں کی تکنیکی مہارتیں سکھائی جائیں تو یہ آبادی ملکی پیداوار میں اضافے اور زرمبادلہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ افرادی قوت کو ہنرمند بنا کر آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک قیمتی اثاثے میں بدلا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں