امن مذاکرات اور توقعات
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 17 جون کو فریقین میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت‘ جسے اسلام آباد میمورنڈم کا نام دیا گیا‘ پر دستخطوں کے بعد پہلی براہ راست ملاقات تھی۔ مذاکرات کا یہ دور خوشگوار ماحول میں ہوا اور فریقین کی جانب سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے ثالثی کردار کو بھرپورخراج تحسین پیش کیا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خوشگوار جملے تادیر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بہترین لیڈرشپ کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ امریکی نائب صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بنیادی تبدیلی کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سفارتکاری اور باہمی تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کے مقصد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں‘ ہم ایک ایسے مستقبل کی تصویر دیکھتے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکیں۔ ان جذبات کے ساتھ مذاکرات کے تکنیکی دور کا آغاز خوش آئند اور علاقائی اور عالمی امن کیلئے نہایت اہم ہے۔

ریب نصف صدی سے امریکہ اور ایران میں سفارتی خلیج حائل ہے اس کے اثرات دونوں جانب موجود ہیں‘ مگر ان تین ماہ سے پاکستانی کی امن اور ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریق خاصی حد تک قریب آئے ہیں۔ اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط اور لیک لوسرن سمٹ اس اعتماد کی علامت ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ فریقین اس اعتماد کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے الفاظ جن کا اوپر حوالہ دیا‘ ایران کی جانب امریکہ کی طرف سے زیتون کی شاخ معلوم ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ امن اور نئی شروعات کی خواہش کا اظہار ہے۔ ایسے جذبات کی قدر کی جانی چاہیے اور اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے کیونکہ امن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جنگ بھی وہیں تک جائز ہے جہاں تک کہ یہ امن کے قیام کی ضمانت بن جائے۔ اس سے آگے یہ جارحیت قرار پاتی ہے جس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔ ماضی میں نازی جرمنی اور حال میں اسرائیل کی مثال جارحیت کے نتائج کو سمجھنے کو کافی ہونی چاہیے۔ وہ امریکہ جس نے اسرائیل کو مکمل چھوٹ دے رکھی تھی‘ اب اسرائیلی جارحیت سے اکتایا ہوا لگتا ہے۔ اگلے روز نائب صدر جے ڈی وینس نے جن الفاظ میں اسرائیلی حکومت کی خبر لی یہ اسرائیل کی جانب امریکی ذہنوں میں آنے والی معنی خیز تبدیلی کو واضح کرتی۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیں تو ایران اور امریکہ میں سفارتی فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کے اس عمل نے دونوں ملکوں کیلئے ایسی راہِ عمل پیدا کر دی ہے جو ایران امریکہ تعلقات میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے اندیشے بھی رد نہیں کئے جاسکتے‘ مگر یہ سمجھ کر چلنا ہوگا کہ امریکہ ایران امن مذاکرات کو پٹری سے اتارنا کسی کے حق میں نہیں سوائے اسرائیل کے۔ دونوں فریقوں کو اس اندیشے کا درست تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ امن عمل اپنے اہداف کی جانب بڑھتا رہے اور مشرق وسطیٰ اور دنیا اس خوشگوار عالمی تبدیلی سے ہمکنار ہو۔ اسلام آباد میمورنڈم میں فریقین نے حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی ہے‘ مگر یہ قابلِ توسیع ہے‘ تاہم فریقین اعتماد کے ساتھ چلیں اور کوئی انہونی نہ ہو تو یہ معاہدہ اس مدت سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اُمید ظاہر کی ہے کہ جب واپس جائیں تو ہمارے پاس دنیا میں امن لانے والے معاہدے کی دستاویز ہو۔ یہ دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنے والوں کے جذبات ہیں‘ امریکہ اور ایران کے کیا جذبات ہیں یہ ان کے عمل اور رویے سے سامنے آئے گا۔