اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کاہنہ کا اندوہناک سانحہ

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ ننھے بچے علم حاصل کرنے کیلئے گھروں سے نکلے تھے مگر ٹیوشن سنٹر کی انتظامیہ کی غفلت اور بے احتیاطی نے ان بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے۔ ٹیوشن سنٹر ایک خستہ حال رہائشی عمارت میں قائم تھا جس کی چھت مضبوط نہیں تھی۔ ریسکیو حکام کے مطابق چھت پر تعمیراتی کام کے دوران مٹی اور ٹائلوں کے اضافی بوجھ کی وجہ سے پوری چھت ٹوٹ کر نیچے آ گری۔ یعنی یہ حادثہ کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ رواں برس مئی میں ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ برس ستمبر میں پنجاب ہی کے ایک قصبے سکھیکی میں ایک سکول کی چھت گرنے سے چھ بچے اور ایک استاد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ تینوں عمارتوں کی چھتیں ٹی آر کی بنی تھیں اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث موت کا پھندا بن گئیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ سکولوں‘ تعلیمی اداروں‘ اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا معائنہ کس کی ذمہ داری ہے؟ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو گلی محلوں میں قائم ہزاروں غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کا ہے۔ ان مراکز کیلئے کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں۔ نہ ان کی رجسٹریشن کرائی جاتی ہے اور نہ ہی عمارتوں کا حفاظتی آڈٹ ہوتا ہے‘ حالانکہ روزانہ لاکھوں بچے ان مقامات پر کئی گھنٹے گزارتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں خستہ حال عمارتیں سنگین نوعیت کے خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ رواں برس جنوری میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اندرون شہر لاہور میں 346خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتیں موجود ہیں‘ جن میں سے 254اب بھی رہائش‘ تجارت یا دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی میں 588مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں تقریباً 50انتہائی خطرناک قرار دی جا چکی ہیں اور وہ کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔

دیگر بڑے شہروں میں بھی کمی و بیش ایسی ہی صورتحال ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کاہنہ جیسے مزید سانحات وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض حادثات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے مستقل اور مؤثر اصلاحات کی طرف بڑھے۔ سانحہ کاہنہ کو قدرت کی آخری تنبیہ سمجھا جائے اور فوری طور پر نہ صرف تمام صنعتی اور کمرشل عمارتوں میں حفاظتی آڈٹ قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے بلکہ بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ کاہنہ کے 14 معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں آ سکتیں لیکن اگر ان کی قربانی بھی ہمارے نظام کو نہ جگا سکی تو یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں