سندھ طاس معاہدہ اور آبی بقا کا چیلنج
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد پانی کے سنگین مسئلے‘ بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کے جائز آبی حقوق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اچھی کاوش ہے۔ سیمینار میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھارت کو کروڑوں پاکستانیوں کا پانی روکنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ پاکستان کے پانی کا تحفظ ہرصورت ممکن بنایا جائے گا۔ پانی نہ صرف زندگی کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ قومی سلامتی‘ بقا اور خود مختاری کا تقاضا بھی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہے اور اس کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات خاصے ہولناک ثابت ہوئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک پاکستان میں بھارتی آبی جارحیت بالخصوص اچانک چھوڑے جانے والے سیلابی ریلوں اور پانی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے لگ بھگ چھ ہزار افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ ضیاع پاک بھارت جنگوں میں ہونے والے جانی نقصان سے بھی زیادہ ہے‘ جو اس امر کی دلیل ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘ جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل کا عالمی قوانین کے تناظر میں حل نکالا گیا بلکہ یہ ایسا جامع معاہدہ تھا جو چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے دونوں ممالک میں نافذ العمل ہے اور باہمی جنگوں کے دوران بھی معطل نہیں ہوا۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں پہلگام فالس فلیگ واردات کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا اور بعد ازاں مغربی دریائوں میں پانی چھوڑنے کی اطلاعات بھی روایتی فورمز کے ذریعے نہیں دی گئیں جس کے سبب پاکستان کو سیلابی ریلوں سے نمٹنے میں اضافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ثالثی عدالت اور معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک متعدد بار یہ حقیقت واضح کر چکے کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل‘ منسوخ یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرنے کا اختیار نہیں ۔ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا رواں سال اپریل میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں‘ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت‘ دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ پاکستان بھی بارہا بھارت پر واضح کر چکا کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کے تغیر وتبدل یا تنازع کی صورت میں ایک واضح اور قانونی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے‘ لہٰذا اگر بھارت کو تحفظات ہیں تو اسے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے‘ مگر بھارت اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کر کے ایسی روایت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو دنیا میں فقط تباہی کا پیغام لائے گی۔ دنیا بھر میں اس وقت سو سے زائد ممالک ایسے ہیں جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور آبی مسائل کا شکار ہیں۔
دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی ان دریاؤں کے بیسن پر آباد ہے جو ایک سے زائد ممالک سے گزرتے ہیں لہٰذا بین الاقوامی برادری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر آج بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا بھر میں انتہائی منفی اور ایک خطرناک مثال قائم ہو جائے گی اور حتمی نتیجے میں پانی کے تنازعات سنگین جنگوں کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں‘ جس سے پوری دنیا کا امن واستحکام تباہ ہو جائے گا۔ تمام تر آبی مسائل اور تنازعات کا پائیدار حل صرف اور صرف عالمی معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں پنہاں ہے۔ عالمی برادری ‘ اقوام متحدہ اور سندھ طاس معاہدے کے ضامن ورلڈ بینک کو چاہیے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائیں تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔