اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبی گزرگاہوں میں تجاوزات

سپارکو کی تازہ سیٹیلائٹ نگرانی نے ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے کہ گلگت بلتستان میں خطرناک  گلیشیائی جھیلوں کی تعداد 131تک پہنچ چکی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر شدید سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ گلگت کے قریب آبی گزرگاہوں کے اطراف گزشتہ ایک دہائی کے دوران تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات میں اضافے سے قدرتی آبی راستے سکڑ چکے ہیں اور پانی اور ملبے کے شدید ریلے کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے جس کا نتیجہ گلوف کی صورت میں بستیوں‘ زرعی زمینوں‘ بنیادی ڈھانچے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلے گا۔ قدرتی آبی گزرگاہوں‘ ندی نالوں‘ دریاؤں کے پاٹ اور سیلابی میدانوں میں غیرقانونی تعمیرات برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

گزشتہ برس اور اس سے قبل 2022ء کے تباہ کن سیلابوں نے بھی ثابت کیا تھا کہ دریا برد علاقوں اور قدرتی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں‘ مگر اس خوفناک تجربے سے بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان اور متعلقہ حکومتیں گلوف کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر آبی گزرگاہوں میں قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائی کریں اور آبی تجازوات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں