اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز اور عزمِ نو

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں ملک کی سکیورٹی صورتحال خصوصاً بلوچستان میں ابھرتے چیلنجز اور ریاستی عزم کو مدلل انداز میں واضح کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا‘ تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور سکیورٹی اہلکاروں نے جرأت و بہادری سے ان کا مقابلہ کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق مختلف کارروائیوں میں پولیس کے 27جوان‘ 11 فوجی اہلکار اور چار عام شہری شہید ہوئے اور جوابی کارروائیوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 54 دہشتگرد مارے گئے۔ بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والا دشمن کون ہے‘ اس حوالے سے دو رائے نہیں اور نہ ہی دشمن کے مذموم مقاصد اور محرکات ڈھکے چھپے ہیں۔ یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے بھارت ہے۔ اہداف اور طریقۂ واردات میں فرق ہو سکتا ہے مگر ان واقعات کے ذمہ داروں کے مقاصد ایک ہی ہیں؛ پاکستان کی ترقی کی راہیں روکنا‘ سماج میں خوف پیدا کرنا اور دفاعی قوت کو کمزور کرنا۔ دراصل معرکہ حق کے بعد سے بھارت نے اپنی ہزیمت کا مداوا پاکستان میں بدامنی کو فروغ دینے میں تلاش کیا ہے۔

یہ باتیں بھارت کے سکیورٹی اداروں اور مبینہ تھنک ٹینکس سے منسلک افراد برملا تسلیم کر چکے ہیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی ہیئت ایسی ہے کہ بھارتی فنڈڈ دہشتگردوں کیلئے گھات لگا کر حملہ کرنا اور پہاڑوں میں مورچے بنا کر چھپنا آسان ہے‘ تاہم پاک فوج کی شبانہ روز محنت اور روزانہ کی بنیاد پر جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے دہشتگردی کے خطرات میں خاصی کمی آئی ہے۔ ایک ملکی سکیورٹی تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں (اپریل تا جون) بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور مجموعی طور پر 94 واقعات رپورٹ ہوئے‘ جو کُل ملکی واقعات کا 35فیصد ہیں۔ اسی طرح پُرتشدد واقعات میں جانی نقصان‘ جو پہلی سہ ماہی میں 443 تھا‘ دوسری سہ ماہی میں کم ہو کر 265 تک آ گیا۔ یہ اعداد وشمار ریاستی رِٹ کی بحالی کیلئے دفاعی اداروں کی مؤثر حکمت عملی کی دلیل ہیں۔ دشمن کی فنڈنگ میں تیزی کے باوجود ہمارے سکیورٹی اداروں کے فولادی عزم نے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور انہی مایوس کن حالات میں دہشتگرد اب شہری آبادیوں پر شب خون مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم اب عوام بھی سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دشمن کیخلاف لڑ رہے ہیں جیسے منگی ڈیم اور ہنہ اوڑک پر دہشتگردوں کے حملوں کے جواب میں بہادر عوام نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہنہ اوڑک کا علاقہ خالی کرا لیا۔ جب ریاستی اداروں اور عوام میں رشتہ اتنا مضبوط ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کر سکتی۔ گزشتہ روز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے غالباً اسی جانب اشارہ کیا کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان‘ اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ ملکی افواج ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ریاستی عزم کا واضح اظہار ہے کہ سرحدوں کے اندر یا باہر سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب اب اسی زبان میں دیا جائے گا جو دشمن کو سمجھ آتی ہے۔

سکیورٹی انتظام بہتر بنانے کے علاوہ ہمیں اس حقیقت کو بھی مان کر چلنا ہو گا کہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے وسائل کی بہتر تقسیم بھی از حد ضروری ہے کیونکہ محرومیوں کیساتھ مسائل کا حل ممکن نہیں۔ خوش آئند بات ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں‘ ضروری ہے کہ اس ترقی کے مثبت اثرات جلد از جلد عام آمی کی زندگی میں بھی نظر آئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں