معاشی ترقی میں رکاوٹ
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں مالی سال 2026-27ء میں معاشی شرح نمو کا تخمینہ 4.5 فیصد سے کم کر کے 3.7 فیصد جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح کا تخمینہ 7.2 فیصد سے بڑھا کر 8.3 فیصد کر دیا ہے۔ بینک نے شرح نمو میں کمی کی بنیادی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ترسیلاتِ زر پر ممکنہ دباؤ کو قرار دیا ہے۔ مہنگی توانائی صنعت‘ زراعت‘ تجارت اور عام شہری سبھی پر بھاری پڑ رہی ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس کے باعث صنعتی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہونے سے ملکی برآمدات کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں مطلوبہ وسعت پیدا نہیں ہو رہی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے فی لٹر سے زائد کا حالیہ اضافہ ان خدشات کو تقویت دے گا۔ جب توانائی کے ذرائع مہنگے ہوں تو مہنگائی پر قابو پانا اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

سستی توانائی کے بغیر نہ عوام کو حقیقی ریلیف دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں ایسی دیرپا اصلاحات متعارف کرائے جن سے بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے۔ اگر سستی توانائی کی فراہمی کو قومی اقتصادی حکمت عملی کا مرکزی ستون بنا لیا جائے تو نہ صرف شرح نمو میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ مہنگائی پر قابو پانے‘ برآمدات بڑھانے اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی راہ بھی ہموار ہو سکے گی۔