بلوچستان میں امن کا راستہ
پاک فوج‘ ایف سی اور پولیس کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شعبان کے نام سے جاری مشترکہ کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کو اب تک کئی اہم اہداف حاصل ہوئے ہیں۔ان کامیاب کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کی بیخ کنی کو ناگزیر قرار دیا۔بلوچستان ایک عرصے سے فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ حالیہ دنوں زیارت کے علاقے میں منگی ڈیم کی سائٹ پر دہشت گردوں کی یلغار بلوچستان میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کو مزید واضح کرتی ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات کا سدباب سکیورٹی کی جامع حکمت عملی کے ساتھ ایسی طویل مدتی کوششوں سے ممکن ہے جو دہشت گردی کے اسباب اور اندیشوں سے نمٹنے کیلئے گہرائی تک جائیں اور صوبے میں پائیدار امن کو یقینی بنائیں۔ دہشت گردی اور مسلح کارروائیاں معاشرے کی ترقی‘ سرمایہ کاری اور عوامی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں ۔

ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں ضروری ہوتی ہیں تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ریاست کی عملداری برقرار رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف مربوط انٹیلی جنس‘ بہتر سرحدی نگرانی اور مشترکہ آپریشنز کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے‘ لیکن مسئلے کا ایک پہلو سماجی اور معاشی بھی ہے۔ سماج کی معاشی محرومیاں‘ غربت‘ بیروزگاری‘ ترقی کے امکانات کا فقدان اور معاصر دنیا کے مثبت اور روشن پہلوؤں سے دوری شدت پسند عناصرکا کام آسان کرتی ہے۔ بلوچستان میں یہ حالات پوری شدت سے موجود ہیں۔ غربت‘ بیروزگاری‘ صحت کی سہولیات کا فقدان اور زندگی میں آگے بڑھنے کے وسائل میں بلوچستان ملک کے باقی حصوں سے بھی پیچھے ہے۔ یہ معاشی اور سماجی عوامل بلوچستان میں لاقانونیت کیلئے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبے میں تعلیم‘ روزگار‘ صحت‘ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ مقامی آبادی کی ترقی کے عمل میں شمولیت اور ان کے مسائل اور محرومیوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا دیرپا امن کیلئے ناگزیر ہے۔سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔
جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا‘ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور عوام کی شکایات کے ازالے کیلئے مؤثر نظام قائم کرنا ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو کہ انکے مسائل سنے اور حل کیے جا رہے ہیں تو انتہا پسندی کیلئے زمین تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ اسی طرح نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا‘ معیاری تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے ‘ ان وسائل سے مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے بہتر مواقع میسر ہوں تو وہ شدت پسند عناصر کے پروپیگنڈے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بلوچستان میں امن کا قیام ایک مشترکہ قومی مقصد ہے؛چنانچہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں‘ مضبوط انٹیلی جنس نظام‘ سرحدی انتظامات‘ سفارتی کوششوں‘ سیاسی ہم آہنگی‘ سماجی انصاف اور معاشی تر قی کے ذریعے صوبے کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔
ریاستی ادارے‘ سیاسی قیادت اورمقامی آبادی جامع حکمتِ عملی کیساتھ مل کر کام کریں تو بلوچستان کو امن‘ استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادھورے اقدامات کے بجائے صوبے کے معاشی‘ سماجی ‘ جغرافیائی اور سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مربوط اقدامات کیے جائیں۔ ایسا ہر اقدام نتیجہ خیز ہو گا اور پائیدار امن ‘ ترقی اور سماجی بہتری کی ضمانت بنے گا۔