اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بروقت اقدامات کی ضرورت

ملک میں قدرتی گیس کی قلت کے باعث لاکھوں گھروں‘ تجارتی مراکز اور صنعتوں کا انحصار ایل پی جی پر بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں آل پاکستان ایل پی جی انڈسٹری کی جانب سے گیس کی درآمدی لاگت‘ فریٹ ریٹس‘ بلوچستان میں سکیورٹی مسائل‘ طویل سپلائی روٹس‘ ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات اور ضابطہ جاتی پیچیدگیوں جیسے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال کی دھمکی دی گئی ہے۔ ملک پہلے ہی توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے‘ ایسے میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی تو صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس شعبے میں پیدا ہونیوالی بے یقینی اور منافع خوری نے پہلے ہی عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔

اس وقت بھی ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 241 روپے فی کلو مقرر ہے مگر مختلف شہروں میں یہ 350 سے 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ ضروری ہے کہ ایل پی جی کی سپلائی چین‘ درآمدی لاگت‘ فریٹ ریٹس‘ ریگولیٹری طریقہ کار اور قیمتوں کے تعین جیسے امور پر توجہ دی جائے اور مسائل کا حل نکالا جائے۔ ایل پی جی کے ڈیلروں کی من مانی ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں جو بنیادی رکاوٹیں ان کا ازالہ بھی ہونا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں