اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم لیوی کا بوجھ

 حکومت کی جانب سے صرف آٹھ روز کے دوران پٹرولیم لیوی میں تقریباً 15 روپے فی لٹر کا اضافہ عوام کے مالی بوجھ میں بڑے اضافے کا سبب بنے گا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق چار جولائی کو پٹرولیم لیوی کو 66 روپے 64 پیسے سے بڑھا کر 70 روپے 36 پیسے فی لٹر کیا گیا اور 11 جولائی کو اس میں مزید 9 روپے 64 پیسے کا اضافہ کرکے اسے 80 روپے فی لٹر تک پہنچا دیا گیا۔ اگر یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو آج عوام کو پٹرول تقریباً 15 روپے فی لٹر سستا مل رہا ہوتا۔ لیکن حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے محصولات بڑھانے کو ترجیح دی۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 178 ارب روپے زیادہ ہے۔

بلاشبہ مالی وسائل کا حصول ہر حکومت کی ضرورت ہوتا ہے تاہم اس مقصد کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنا جو براہِ راست عام شہری کی زندگی کو مہنگا بنا دیں‘ طویل المدت معاشی استحکام کیلئے سودمند حکمتِ عملی نہیں سمجھے جا سکتے۔ حکومت کو ایسے مالی فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات‘ قوتِ خرید‘ غربت اور مہنگائی کے مجموعی اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ محصولات میں اضافے کا آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا‘ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی‘ مالی نظم وضبط اور جامع معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں