اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے جنم لینے والی آفات سے بچنے کیلئے ملک کو طویل مدتی اور جامع آبی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشوں اور گلیشیرز کے پگھلنے سے ہمارے انفراسٹرکچر کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔ سیلابی ریلوں سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالرز کا جھٹکا لگتا ہے۔ ان سنگین حالات میں یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ملک میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے وقت پر مکمل ہوتے تو نہ صرف سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا تھا بلکہ یہ پانی تباہی پھیلانے کے بجائے ملک کی تقدیر بدل رہا ہوتا۔ چیئرمین واپڈا کا یہ بیان کہ پاکستان کو واٹر سکیورٹی کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے‘ ایک ناگزیر قومی تقاضے کی یقین دہانی ہے۔ پاکستان کی آبی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بعد دہائیوں تک آبی ذخائر کے شعبے میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں کی۔ یہ دونوں ڈیم چھ دہائیوں سے پاکستان کی زراعت اور توانائی کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

یعنی ایک طرف ہمارے موجودہ آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں اور دوسری جانب نئے ذخائر کی تعمیر کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اردگرد کے ممالک سے موازنہ کریں تو بھارت نے پانچ ہزار سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر رکھے ہیں‘ سری لنکا جیسے چھوٹے سے ملک میں سوا چار سو سے زائد ڈیم موجود ہیں۔ چین میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد 97 ہزار سے زائد ہے۔ اس کے مقابلے میں24 کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان میں بین الاقوامی معیا ر کے 73 ڈیم اور 100 کے قریب ہائیڈل منصوبے فعال ہیں جو ہماری زرعی‘ معاشی اور آبادیاتی ضروریات کے لحاظ سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ اس قلیل تعداد کی وجہ ہے ماضی کی غفلت اور آبی ذخائر پر سرمایہ کاری نہ کرنے کا رجحان۔ اس کی ایک حالیہ مثال بھاشا ڈیم ہے‘ جس کیلئے واپڈا کی جانب سے 94 ارب روپے طلب کیے گئے مگر بجٹ میں اس کیلئے صرف دس ارب روپے رکھے گئے۔ اس نوعیت کی مالیاتی عدم توجہی اور فنڈز کی قلت نہ صرف منصوبوں کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بنتی ہے بلکہ لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ‘ جو سستی بجلی کا ایک بڑا ذریعہ تھا‘ ٹنلز کی خرابی اور تکنیکی نقائص کے باعث ڈھائی سال سے بند پڑا ہے اور اگلے ڈیڑھ سال تک اسے دوبارہ مکمل فعال نہیں بنایا جا سکے گا۔

اس بندش سے اب تک 99 ارب سے زائد کا خسارہ ہو چکا۔ اس قسم کی تکنیکی ناکامیاں اور انتظامی کمزوریاں ملکی معیشت پر بوجھ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں کیونکہ متبادل کے طور پر مہنگے درآمدی ایندھن سے بجلی بنانا پڑتی ہے جبکہ پاکستان میں آج بھی سب سے سستی بجلی پن بجلی منصوبوں سے حاصل کی جا رہی ہے‘ جس کی لاگت تین سے چار روپے فی یونٹ ہے۔ بڑے ڈیموں کی افادیت صرف سستی توانائی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ کثیر المقاصد ہوتے ہیں۔ ڈیم ایک طرف سستی بجلی بناتے ہیں‘ دوسری طرف واٹر سٹوریج کی ملکی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر بپھرے ہوئے سیلابوں کو اپنے اندر سمو کر تباہی وبربادی سے بچاتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہم ہر سال اربوں کیوبک فٹ قیمتی اور میٹھا پانی سمندر کی نذر کر دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسے ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم ہی موجود نہیں۔ 1947ء میں ملک میں فی کس 5600 مکعب میٹر پانی دستیاب تھا جو 2023ء میں 930 مکعب میٹر کی سطح تک گر چکا‘ اور اب پاکستان کو آبی بحران سے دوچار ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ سبھی پہلو ہمیں حتمی طور پر اسی نکتے پر لے آتے ہیں کہ مزید ڈیم بنائے اور آبی ذخیرے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر چارہ نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں