ڈگریوں کی تصدیق میں تاخیر
اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے مگر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈگری کی تصدیق جیسے بنیادی مرحلے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیش آئیں تو برسوں کی محنت بھی غیریقینی صورتحال سے دوچار ہو جاتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے حالیہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ غیرمجاز کیمپسز سے وابستہ ہزاروں طلبہ کی ڈگریاں تاحال تصدیق کی منتظر ہیں۔ یہ معاملہ محض انتظامی سستی کا نہیں بلکہ نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم‘ سکالرشپ‘ ملازمت یا پیشہ ورانہ رجسٹریشن کیلئے تصدیق شدہ اسناد بنیادی تقاضا ہیں۔

ایسے میں اگر طلبہ مہینوں تک اس عمل کی تکمیل کے منتظر رہیں تو نہ صرف قیمتی مواقع ضائع ہوتے ہیں بلکہ انہیں مالی نقصان اور ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک اور افسوسناک پہلو غیرمجاز کیمپسز کا قیام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈگریوں کی تصدیق کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹائزیشن‘ خودکار تصدیقی نظام‘ واضح وقت کی پابندی اور مؤثر نگرانی سے نہ صرف تاخیر کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ شفافیت اور اعتماد میں بھی اضافہ ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں غیر قانونی اقدامات کی مؤثر روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔