اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سست رفتار انٹر نیٹ

سست رفتار انٹرنیٹ اور غیرمستحکم نیٹ ورک کے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں ۔ حالیہ دنوں یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث رہا جہاں قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سست انٹر نیٹ اور کمزور نیٹ ورک پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہ مسئلہ اب صرف دور دراز علاقوں تک محدود نہیں بڑے شہروں میں بھی سست رفتار انٹرنیٹ کی شکایات عام ہیں۔ اگرچہ حکومت فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کر چکی اور 22 بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز کے آغاز کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ صارفین کو آج بھی سست انٹرنیٹ اور غیر مستحکم نیٹ ورک کا سامنا ہے۔ تعلیم‘ ای کامرس‘ بینکاری‘ سرکاری خدمات‘ آن لائن کاروبار اور صنعتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر انحصار کرتا ہے‘ اس لیے سست رفتار انٹرنیٹ براہِ راست پیداواری صلاحیت اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کا ہوتا ہے۔ خصوصاً دور دراز علاقوں میں۔ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی رفتار اور معیار میں حائل تمام تکنیکی‘ انتظامی اور توانائی سے متعلق رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔اسی طرح موبائل نیٹ ورک کے مسائل کو بھی دور کیا جانا ضروری ہے۔اس وقت بڑے شہروں میں تو شاید یہ مسئلہ نہ ہو یا کم ہو مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں دیہات میں موبائل نیٹ ورک کے مسائل کافی زیادہ ہیں جن کا ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں