معاشی ترقی کا عزم اور حقائق
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال ملک میں معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہو گا۔ ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا‘ سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس کے نظام کو شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ سکے۔ حکومت نے ترقی کا جو فارمولا بیان کیا ہے اس کی اصابت سے انکار نہیں کہ کاروبار کرنے میں آسانی‘ سرمایہ کاری و برآمدات کا فروغ اور آسان ٹیکس نظام ہی معاشی ترقی کو مہمیز دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس پیمانے پر اگر جاری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔اگر کاروباری اعتماد کی بات کی جائے گزشتہ ماہ جاری کردہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نو فیصد کمی آئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی‘ بڑھتی مہنگائی‘ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ‘ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسی غیر یقینی وہ عوامل ہیں جن کے سبب سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ 70 سے 80 فیصد ادارے نہ صرف سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر رہے بلکہ اکثر اپنے کاروبار کو سمیٹ رہے ہیں۔

برآمدات کی بات کریں تو گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم30.13 ارب ڈالر رہا جو طے کردہ ہدف 35 ارب ڈالر سے لگ بھگ 14 فیصد کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 25ء کی نسبت بھی برآمدات میں چھ فیصد گراوٹ آئی۔ بعینہ معاملہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 28.4فیصد کمی آئی۔ 1999ء سے 2025ء تک‘ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم دو ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا ہے‘ جو 400 ارب ڈالر سے بڑی معیشت اور 25کروڑ آبادی والے ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ٹیکس اصلاحات کی بات کی جائے تو پاکستان کا ٹیکس نظام بدستور تضادات کا شکار ہے۔ ٹیکس ریونیو میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں 14131 ارب روپے ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے بعد ازاں آئی ایم ایف کیساتھ نظر ثانی میں کم کر کے 13979 ارب روپے کر دیا گیا مگر مالی سال کے اختتام تک 13003 ارب روپے ٹیکس ہی جمع ہو سکا اور لگ بھگ 975 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا رہا۔
اب نئے مالی سال میں 15264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف رکھا گیا ہے‘ جس کیلئے زیادہ انحصار بالواسطہ ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی پر ہے۔ حالانکہ ایک معیاری ٹیکس نظام کو شفاف اور بلاواسطہ ہونا چاہیے‘ تاکہ ہر طبقے پر اس کا بوجھ لادنے کے بجائے صرف متمول طبقات پر ہی ٹیکس عائد کیا جائے۔ لہٰذا ٹیکس اصلاحات ہنوز تشنہ تعبیر ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں تجارتی خسارہ 39 ارب 47 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ 41 ارب 60 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کیا اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس رہا مگر معاشی ماہرین کے نزدیک یہ پائیدار حکمتِ عملی نہیں ہے۔ سات برسوں میں ترسیلاتِ زر تقریباً دُگنی ہو چکی ہیں مگر اسی عرصے کے دوران برآمدات تیس ارب ڈالر کے قریب جمود کا شکار ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترسیلات بنیادی طور پر کھپت کو سہارا دیتی ہیں‘ سرمایہ کاری کو نہیں۔
لہٰذا ترسیلاتِ زر کا بڑھتا حجم عارضی معاشی سہارا تو ہو سکتا ہے مگر سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد یا وسیع تر معاشی خوشحالی کی عکاسی نہیں کر سکتا۔ پائیدار ترقی درآمدات و برآمدات میں توازن‘ شفاف ٹیکس نظام‘ صنعتکاری و سرمایہ کاری کے فروغ اور آسان کاروبار میں پہناں ہے۔ قومی معیشت میں نمو کی صلاحیت سے انکار نہیں مگر اس کیلئے جس تندہی کی ضرورت ہے وہ اب تک نظر نہیں آتی۔