ڈنکی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ
ایف آئی اے حکام کے مطابق 12 پاکستانی نوجوانوں کو انسانی سمگلروں نے یورپ بھجوانے کا جھانسا دے کر ایران میں اغوا کر لیا اور ان کے اہلِ خانہ سے بھاری تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کا راستہ روشن مستقبل نہیں بلکہ جان‘ مال اور عزت کیلئے سنگین خطرات کا سندیسہ ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں 335 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ان المناک واقعات کے باوجود ڈنکی کا رجحان ختم نہیں ہو رہا۔

اگرچہ گزشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا ہے اور غیر قانونی سفر کے مختلف راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو انسانی سمگلر فوراً دوسرا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اب پرانے روٹس کے بجائے ملائیشیا‘ ازبکستان‘ بیلاروس‘ موریطانیہ اور سینیگال جیسے نئے راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیساتھ ساتھ نوجوانوں میں آگاہی بھی پھیلائے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے بجائے تعلیم‘ ہنر اور قانونی امیگریشن کے ذرائع اختیار کریں۔