اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کے خدشات اور تدارک

آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آئوٹ لُک رپورٹ نے پاکستان میں عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرنے والے مسئلے‘ مہنگائی کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے‘ جو حکومت کے طے کردہ ہدف 8.2 اور گزشتہ سال کی 7 فیصد شرح کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ میں پانچ برس کیلئے مہنگائی سنگل ڈیجٹ یعنی نو فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے مگر یہ رپورٹ اس مفروضے پر قائم ہے کہ وسط جولائی سے مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر آنا شروع ہو جائیں اور دوبارہ فروری کی سطح پر پہنچ جائیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سنبھلنے کے بجائے مزید گمبھیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ اثرات‘ جو مہینوں بعد پاکستان پر مرتب ہونا تھے‘ ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملک میں پٹرول کی قلت اسکی واضح مثال ہے۔ اگرچہ نیشنل کوآرڈی نیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے اجلاس میں پٹرولیم کے ملکی ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قلت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایات بھی جاری کی ہیں مگر دیکھا جائے تو پاکستان کو بیرونی جھٹکوں سے زیادہ داخلی مارکیٹ میکانزم سے خطرہ ہے۔

عالمی بحرانوں کے اثرات باقی ملکوں پر اس طرح نہیں مرتب ہوتے جتنا خمیازہ پاکستان کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وجہ ہے کمزور حکومتی رِٹ اور مارکیٹ پر غیر مؤثر گرفت۔ آئے روز آٹے‘ چینی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی اور قلت محض عالمی اثرات کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ داخلی کمزوری ہے جو بیرونی تلاطم کو کئی گنا بڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کا رویہ بھی دفاعی دکھائی دیتا ہے‘ جو قیمتوں میں اضافے کا ملبہ عالمی منظر نامے‘ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور بین الاقوامی آئل مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ اگرچہ ایک درآمدی معیشت ہونے کے ناتے پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی کسی بھی ہلچل سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ایندھن اور مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے درآمدی اشیا کی قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ملک میں پیدا ہونے والی اشیا کے دام میں بھی من چاہا اضافہ ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی عوامل کو تبدیل نہ کر پانے کے باوجود ایک مضبوط‘ فعال اور سنجیدہ اندرونی حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی معاشی جھٹکوں کے منفی اثرات کو کافی حد تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کیلئے حفاظتی بیریئر قائم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اندرونی سطح پر کوئی ٹھوس انسدادی ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔ لہٰذا اب حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت مارکیٹ کنٹرول کے نظام کو بہتر اور مضبوط بنائے۔ جب تک مارکیٹ میں ریاستی رِٹ قائم نہیں ہوگی تب تک معاشی پالیسیوں کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی محض تجارتی جرائم نہیں بلکہ سنگین معاشی دہشتگردی کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ سپلائی چین کی شفافیت کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی مڈل مین مصنوعی طور پر قیمتوں کو متاثر نہ کر سکے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات ہمیں خبردار کر رہے کہ آنیوالے دن مزید کٹھن ہو سکتے ہیں‘لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک جامع حکمت عملی مرتب کرے۔ اندرونی استحکام ہی وہ ڈھال ہے جو ہمیں بیرونی طوفانوں سے بچا سکتی ہے۔ جب تک ہم مارکیٹ کے اندرونی بگاڑ کو ٹھیک نہیں کرلیتے تب تک عالمی حالات کے یرغمال بنے رہیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں