اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچے

ایک خبر کے مطابق ملک میں چھ لاکھ 51ہزار بچے پیدائش کے بعد حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافہ خسرہ‘ پولیو‘ کالی کھانسی‘ تشنج اور دیگر ایسی بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے جن پر دنیا کے بیشتر ممالک قابو پا چکے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مستقبل میں ایک بڑے عوامی طبی سانحے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان اُن پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں خطے کے تقریباً 90 فیصد ایسے بچے موجود ہیں جنہیں کوئی ویکسین نہیں لگائی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل دیگر ممالک؛ افغانستان‘ صومالیہ‘ یمن اور سوڈان جنگ‘ بدامنی یا ریاستی انہدام کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں اس بحران کی بنیادی وجوہات انتظامی نااہلی‘ حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کی خامیاں‘ دور دراز علاقوں تک رسائی کا فقدان اور ویکسین سے متعلق رائج غلط فہمیاں ہیں۔ حفاظتی ٹیکے بچوں کو جان لیوا اور معذور کر دینے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کو قومی ترجیح قرار دے‘ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں شفافیت اور دور افتادہ علاقوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے‘ کولڈ چین نظام کو جدید بنایا جائے۔ علاوہ ازیں والدین میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مؤثر قومی مہم بھی ناگزیر ہے تاکہ ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں ختم ہوں اور وہ اپنے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں