بھارت کی آبی جارحیت
واپڈا کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 21 ہزار 600 کیوسک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چار روز قبل دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 71 ہزار 900 کیوسک تھا جو کم ہو کر 50 ہزار 300 کیوسک رہ گیا ہے۔ پانی کی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دریائے چناب کے گرد واقع اضلاع سیالکوٹ‘ گجرات‘ منڈی بہاء الدین اور حافظ آباد میں چاول کی فصل اپنی نشوونما کے اہم مرحلے میں ہے۔ ان علاقوں کی زرعی معیشت کا بڑا انحصار دریائے چناب کے پانی پر ہے‘ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف چاول بلکہ خریف کی دیگر فصلیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پانی کی یہ کمی قدرتی نہیں بلکہ بھارت کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب کے پانی پر پاکستان کا حق ہے تاہم معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد سے بھارت آبی جارحیت جیسے اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔ اگر پانی کے بہاؤ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک نظیر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے اس معاملے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے اور پاکستانی مؤقف کو اہمیت بھی ملی ہے۔ تاہم موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سفارتی کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے اور تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو پوری قوت سے اجاگر کیا جائے۔