جنگ بندی، مذاکرات اور امن
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی شنگھائی میں ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ امور کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا تنازع بھی زیر غور آیا اور اطلاعات کے مطابق وزرائے خارجہ نے امریکہ اور ایران پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے زور دیا۔ امریکہ اور ایران میں طویل سفارتی کوششوں کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ممکن ہوئی جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں تاہم 8 جولائی سے شروع ہونے والی کشیدگی امن کوششوں کے مستقبل کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ دونوں ممالک ہفتہ بھر سے ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پہلے سے زیادہ خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان اور چین سمیت خطے کے سبھی ممالک کیلئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ ان ممالک کی توانائی کی ضرورت کے زیادہ تر وسائل اسی راستے سے آتے ہیں۔ کشیدگی کے ماحول میں اس آبی گزرگاہ سے تجارت معمول کے مطابق جاری رہنا ممکن نہیں اور عالمی قیمتوں کا دباؤ اس کے علاوہ ہے۔ چین کیلئے تشویش کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ایران کے خا م تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پاکستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق اس بحران نے پاکستان کے بیرونی تجارتی شعبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جی سی سی ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں ممکنہ طور پر ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر کی کمی آ سکتی ہے جبکہ جی سی سی سے پاکستان کی درآمدات خاص طور پر توانائی میں بھی بڑی کمی ہو سکتی ہے اور یہ بحران پاکستان کی مقامی پیداوار اور عالمی برآمدات کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ توانائی کی بلند قیمتوں سے پاکستان کے درآمدی بل میں ہونیوالا اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بیرونی قرضوں میں اضافے کا سبب ہے۔ پاکستان اور چین‘ جو اس علاقائی کشیدگی کے معاشی متاثرین میں شامل ہیں‘ کی جانب سے اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو تحمل اور سفارتکاری کی جانب متوجہ کرنے کی اہمیت واضح ہے۔
پاکستان اور چین نے مارچ کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کیلئے پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی‘ مذاکرات کے آغاز‘ شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر زور دیا گیا تھا۔ اُن دنوں امریکہ ایران جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی تھی‘ گھمسان کا رن پڑا تھا اور دونوں جانب بڑے نقصانات کی خبریں آ رہی تھیں‘ تاہم پاکستان کی جانب سے امن کیلئے اٹھائے گئے قدم نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور سات اپریل کو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا جو مذاکراتی عمل سے ہوتا ہوا جون کے وسط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر منتج ہوا جس میں پائیدار امن کو حتمی شکل دینے کیلئے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی تھی اور برگن سٹاک مذاکرات کی صورت میں خوشگوار پیش رفت کا آغاز ہوا۔ یہ جون کے تیسرے اور چوتھے ہفتے کے واقعات ہیں۔ مگر جولائی کے پہلے ہفتے کیساتھ ہی امریکہ ایران کشیدگی دوبارہ شروع ہو گئی اور یہ سلسلہ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
ان حالات میں جب متحارب ملک امن معاہدے پر دستخط کر چکے اور پائیدار امن کیلئے سنجیدہ نظر آتے تھے‘ یہ تشویشناک امر بدستور ایک سوال ہے کہ اس امن عمل کے پٹری سے اترنے کی کیا وجہ بنی؟ حقیقت جو بھی ہو‘اس نے قیامِ امن کی ان کوششوں کیلئے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں جن سے دنیا کو بڑی امیدیں تھیں۔ امریکہ اور ایران دونوں کو اس صورتحال کے بھیانک نتائج کا اندازہ ہونا چاہیے اور امن کی قدر وقیمت کا بھی۔ فریقین کا مذاکرات کی میز پر واپس آنا ازبس ناگزیر ہے۔ یہی ان متحارب ملکوں کے مفاد میں ہے‘ خطے اور دنیا کے مفاد میں بھی۔