اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خطرات

بلوچستان میں دہشتگردی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پوری قوم کیلئے سخت تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ روز مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سمیت دو افراد شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ قبل ازیں بدھ کے روز ضلع مستونگ ہی میں کوئٹہ سے کراچی جانیوالی مسافر بس پر دہشت گردوں کے حملے میں تین مسافر شہید اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گرد بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان گزشتہ دو عشروں سے دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے نبرد آزما ہے۔ 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں اختیار کی گئی متفقہ قومی حکمت عملی کے نتیجے میں 2017-18ء تک دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا‘ تاہم 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور وہاں عبوری طالبان حکومت کے قیام کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال نے دوبارہ پیچیدہ رخ اختیار کر لیا۔ ایک سکیورٹی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 267 واقعات رونما ہوئے جن میں 249 سکیورٹی اہلکار اور 436 عام شہری شہید ہوئے جبکہ 92 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے‘ جس کی بڑی وجہ ہے ان صوبوں کا افغانستان سے ملحق ہونا۔

سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں لیکن افواجِ پاکستان ان عناصر کے خلاف ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔ گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے اور ملک و قوم کیلئے خطرہ بننے والے دہشتگردوں کے بنیادی ڈھانچے اور انکے سہولت کار جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں ختم کیا جائے گا۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کے عزم پر قائم ہے۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد عناصر کیخلاف جاری آپریشن شعبان کے دوران پانچ جولائی سے اب تک تقریباً 130 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

یہ کامیابیاں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کا ثبوت ہیں‘ تاہم دہشت گرد عناصر بیرونی معاونت اور سہولت کاروں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں‘ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس جنگ میں مسلسل چوکس رہنے اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں‘ ضروری ہے کہ اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز سر جوڑ کر بیٹھیں اور یکسو ہو کر کام کریں۔ جب تک مذہبی‘ سماجی‘ قبائلی‘ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر آکر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی بیانیے اور مؤثر حکمت عملی پر عمل درآمد نہیں کرتی‘ اس ناسور کا مکمل خاتمہ دشوار ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں