اربن فلڈنگ کا مستقل تدارک ناگزیر
گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے سبب مختلف حادثات میں نو افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے۔ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہونے سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ محکمہ موسمیات کئی روز قبل ہی بالائی اور میدانی علاقوں میں شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کے حوالے سے الرٹ جاری کر چکا تھا لیکن بروقت ضروری اقدامات نہ ہونے کے باعث نہ صرف قیمتی جانی بلکہ کثیر مالی نقصان بھی بھگتنا پڑا۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں بارشوں کے سبب ہونے والے حادثات میں 81افراد جاں بحق اور تقریباً 250زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ‘ 47اموات خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جبکہ پنجاب میں 21اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ہر سال سینکڑوں افراد مون سون کی بَلی چڑھ جاتے ہیں جبکہ بارشوں اور طغیانی سے جو مالی نقصان بھگتنا پڑتا ہے‘ اس کا کوئی شمار ہی نہیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا کہ شدید بارشوں کے باوجود چند ہی گھنٹوں میں تمام پانی نکال دیا گیا مگر اس سے تہہ خانوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے اور گھروں میں پانی گھس جانے سے جو نقصان ہوا‘ اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

ابھی مون سون کا دوسرا سپیل ہے اور متعدد شہری علاقے ترائی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ مون سون اب ہر سال شہروں میں اربن فلڈنگ کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین بارہا زیر زمین آبی سرنگوں کے نظام کی افادیت اجاگر کر چکے جس سے ہائی فلڈ زونز کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں اربن فلڈنگ سے بچنے کیلئے یہ تکنیک استعمال کی جا رہی‘ جس سے شہری سرگرمیوں‘ ٹریفک اور دیگر کاموں میں کوئی رخنہ نہیں پڑتا مگر ہمارے اربابِ اختیار اس حوالے سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر سال مون سون میں سینکڑوں جانوں اور اربوں روپے کے نقصانات برداشت کرنے کے باوجود ان مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ متحدہ عرب امارات کی مثال یہاں برمحل ہے‘ جہاں دو سال قبل شدید بارشوں کے باعث دبئی سمیت متعدد شہروں میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اماراتی حکومت نے فوری طور پر 30ارب درہم کی خطیر لاگت سے ایک میگا پروجیکٹ کا آغاز کیا جو نہ صرف برساتی پانی کے اخراج کے استعداد کو 700فیصد تک بڑھائے گا بلکہ یہ آئندہ سو سالہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تقریباً ایک عشرے قبل تک پنجاب کے بڑے شہروں میں نکاسیِ آب کا نظام باقی علاقوں کی نسبت کافی بہتر تھا لیکن اب لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں نکاسی آب کا ناقص نظام انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دیکھا جائے تو یہ معاملہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ سے جڑا ہے۔
اکثر شہروں میں برساتی نالوں کی زمینیں تجاوزات کی نذر ہو چکی ہیں‘ پانی کے بہاؤ کے جو قدیمی قدرتی رستے تھے‘ ان پر عمارتیں وجود میں آ چکی ہیں‘ شہروں کے فرسودہ سیوریج نظام دہائیوں سے توسیع کے منتظر ہیں مگر ایسے منصوبے حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اربن فلڈنگ ملکی معیشت کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ بڑے شہروں میں بارشیں معاشی سرگرمیوں کو بھی معطل کر دیتی ہیں جس سے پورے ملک کی معاشی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ برس وزارتِ پلاننگ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملکی نصف معیشت سیلابی خطرات کی زد میں ہے۔ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ ملتان اور کوئٹہ؛ یہ شہر ملکی جی ڈی پی میں نصف کے حصہ دار ہیں۔ اگر ان میں سیلابی صورتحال پیش آئے تو معیشت کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو وقتی کے بجائے ایک سنگین معاشی مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے جس کا فوری حل ناگزیر ہو چکا ہے۔ سیوریج نظام کی توسیع‘ پانی کے قدرتی بہاؤ کی بحالی اور نکاسی آب کے نئے منصوبوں کے بغیر اربن فلڈنگ کے مسئلے کا مستقل تدارک ممکن نہیں۔