سائبر حملے
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے مطابق رواں برس ملکی اداروں پر 400 سے زائد سائبر حملے ہوئے مگر بروقت کارروائی سے تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔بلاشبہ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ ملکی ادارے فوری ردِعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس پر تشویش بھی ہے کہ سائبر خطرات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بالخصوص بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونیوالی سائبر سرگرمیوں کے تناظر میں سائبر دفاع کو روایتی دفاع جتنی اہمیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے قیام اور تمام سرکاری اداروں میں سائبر سکیورٹی معیارات کے نفاذ‘ درآمدی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی سکیورٹی جانچ اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

تاہم ریاستی اقدامات کیساتھ نجی شعبے اور عام صارفین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ زیادہ تر سائبر حملے کمزور پاس ورڈ‘ فشنگ ای میلز‘ غیر محفوظ سافٹ ویئر اور انسانی غفلت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اسلئے ہر ادارے کو دہری تصدیق‘ بروقت سافٹ ویئر اَپ ڈیٹس‘ ملازمین کی باقاعدہ تربیت اور مشکوک فائلوں سے اجتناب کی لازمی پالیسی بنانی چاہیے۔ شہریوں کو بھی مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنے‘ غیر معروف لنکس پر کلک نہ کرنے‘ ذاتی معلومات شیئر کرنے میں احتیاط برتنے اور صرف مستند ایپلی کیشنز استعمال کرنے کی عادت اپنانا ہو گی۔