اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم پالیسی اور سٹرٹیجک ذخائر

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں گزشتہ روز کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیا جانے والا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ ملک میں پٹرولیم کے سٹرٹیجک ذخائر میں اضافہ کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی‘ صنعتی ضروریات‘ درآمدی ایندھن پر انحصار اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ رواں برس امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور رسد کی مشکلات کے پیشِ نظر ایک بار پھر ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر میں اضافے کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے۔ پاکستان کی آبادی اندازاً 25 کروڑ سے زائد ہے مگر اس حساب سے ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر ناکافی ہیں اور اس کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ ہمیں زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ فی الحال آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 20 دن کیلئے سٹاک رکھتی ہیں مگر اسے سٹرٹیجک ذخائر نہیں کہا جا سکتا‘ یہ تجارتی ذخائر ہیں جیسے کوئی دکاندار اپنے ہاں مال کا ایک مختصر ذخیرہ رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم دو ماہ کی کھپت کے مساوی تیل کے سٹرٹیجک ذخائر رکھے جائیں۔

اس شعبے میں تیل پیدا کرنیوالے ممالک اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا اشتراک اور سرمایہ کاری کے کافی امکانات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی توانائی سے مالا مال ریاستوں کیساتھ ملکِ عزیز کے مضبوط تعلقات پاکستان کیلئے توانائی کے شعبے میں ان ممالک سے سرمایہ کاری اور تعاون میں بڑی آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ چند برس قبل سعودی ولی عہد جب پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے گوادر میں ریفائنری لگانے کا اعلان کیا تھا اور آٹھ سے دس ارب ڈالر لاگت کی ریفائنری کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے‘ تاہم اس معاہدے پر اسکے بعد کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی۔ اب جبکہ حکومت نے آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء میں ترامیم کر کے براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے تو ملک میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات کے تناظر میں ماضی کے ان معاہدوں اور یادداشتوں کی گرد جھاڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس نئی ریفائننگ پالیسی کے تحت ملک کی موجودہ پانچوں آئل ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا جس پر تقریباً چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس سرمایہ کاری سے نہ صرف ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے معیاری اور ماحول دوست ایندھن بھی تیار کیا جا سکے گا۔ اس طرح پٹرول کی یومیہ پیداوار میں تقریباً 72 اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی پیداوار میں 39 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ مقامی پیداوار میں اضافے سے اس ایندھن کی درآمد میں کمی اور اس پر خرچ ہو نیوالے زرِمبادلہ کی بچت ہو گی۔ اس پالیسی کا ایک اہم پہلو یورو فائیو معیار کے مطابق ایندھن کی تیاری ہے۔

کم سلفر والے یہ ایندھن فضائی آلودگی میں کمی کاسبب بنیں گے۔ اب ضروری یہ ہے کہ صرف پالیسی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں۔ ماضی میں کئی اہم منصوبے پالیسیوں کی تبدیلی اور سست فیصلہ سازی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔ نئی پٹرولیم پالیسی کے حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے‘ سرمایہ کاری کیلئے بھر پور اقدامات کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل کیلئے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ توانائی کا محفوظ اور مستحکم نظام کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر ملک میں ریفائنریوں کو جدید بنا لیا جائے‘ خام تیل کے سٹریٹجک ذخائرتعمیر کر لیے جائیں اور صاف ایندھن کی پیداوار کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ہوگا بلکہ ملک کو مستقبل میں عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی زیادہ مضبوط بنائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں