غفلت کا خمیازہ
ایک خبر کے مطابق سندھ میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران ایڈز کے چار بڑے آؤٹ بریکس ہوئے جن میں تقریباً 1300 سے زائد افراد‘ جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے‘ ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک پائی جاتی ہے جو کہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار‘ انفیکشن کنٹرول کی ناکامی‘ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی اور نگرانی کا کمزور نظام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان اسباب کا آج مکمل تدارک ہو چکا ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ اگرچہ حکومت نے غیر معیاری سرنجوں پر پابندی‘ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے فروغ‘ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور بعض نئے انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن زمینی سطح پر یہ بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

انفیکشن کنٹرول کے سخت معیارات‘ محفوظ سرنجوں اور خون کی لازمی جانچ‘ غیر رجسٹرڈ کلینکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی‘ ایچ آئی وی کی وسیع پیمانے پر سکریننگ اور عوامی آگاہی کی مہمات کے بغیر اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں۔ شہری بھی اس ذمہ داری سے مبرا نہیں۔ انہیں ہر انجکشن کیلئے نئی سرنج کے استعمال پر اصرار کرنا چاہیے‘ صرف مستند طبی مراکز سے علاج کرانا چاہیے‘ غیر ضروری انجکشن لگوانے سے گریز کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔